کراچی : قتل ہونے والے نوجوان میر رضا کے والد میر حسین علی نے دعویٰ کیا کہ میر رضا کو معلوم تھا میں جن سے ملنے جا رہا ہوں وہ تھانے سے بھی اوپر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق کراچی میں قتل ہونے والے نوجوان میر رضا علی کے والد میر حسین علی نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا میرے بچے پر شدید تشدد کیا گیا یہ پروفیشنل لوگ ہیں جنہوں نے یہ کیا ہے، میر رضا کو پلاننگ کرکے بلایا گیا اور اس پر تشدد کیاگیا۔
میر حسین علی نے دعویٰ کیا کہ میر رضا کو معلوم تھا کہ وہ جن لوگوں سے ملنے جا رہا ہے، وہ تھانے سے بھی اوپر ہیں، میڈیکل رپورٹ میں میر رضا کو بے ہوش کرکے تشدد کیے جانے کا ذکر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آئی جی سندھ کہتے ہیں رپورٹ میں کچھ غلطی ہے پریس کانفرنس نہیں کی گئی، میں نے وزیرداخلہ صاحب سے کہا ہماری بھی قبریں بنادیں اور ہمیں بھی خودکشی ڈکلیئر کرادیں۔
"میر رضا کو یہ معلوم تھا میں جن سے ملنے جا رہا ہوں وہ تھانے سے بھی اوپر ہیں،” والد میر رضا کا اہم بیان#ARYNews #11thHour pic.twitter.com/sDgab05iMF
— ARY NEWS (@ARYNEWSOFFICIAL) August 11, 2026
مقتول کے والد نے کہا کہ پولیس پر پہلے بھی بھروسہ کیا اور اب بھی اعتماد ہے، کیونکہ کیس کی تحقیقات کے لیے نئی ٹیم تشکیل دی گئی ہے اور 12 دنوں میں پہلی مرتبہ عامر فاروقی کی ٹیم نے ان کی بات سنی ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ گلستان جوہر کے کامران قریشی کو صرف معطل کرنے کے بجائے شاملِ تفتیش کیا جائے۔
میر حسین علی نے الزام لگایا کہ کامران قریشی نے شواہد میں ٹمپرنگ کی ہے، اس لیے ان سے بھی تفتیش ہونی چاہیے۔


