کراچی (4 اگست 2026): میر رضا قتل کیس کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی جس میں کئی جگہ غلطیاں اور کئی اہم باتیں مسنگ ہیں، اور اگر اس رپورٹ کو سچ مان لیا جائے تو اس میں اہم انکشافات ہیں۔
- پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق گولی کے داخل ہونے کا زخم 1.8 × 1.6 سینٹی میٹر جبکہ باہر نکلنے کا زخم 1 × 1.2 سینٹی میٹر لکھا گیا ہے۔ عام طور پر گولی کے داخل ہونے کا زخم چھوٹا اور باہر نکلنے کا زخم بڑا ہوتا ہے۔ اس لیے رپورٹ میں درج یہ پیمائشیں سوالات پیدا کرتی ہیں۔ ممکن ہے رپورٹ لکھتے وقت غلطی ہوئی ہو یا زخم کی درست طریقے سے نشاندہی نہ کی گئی ہو۔ اس سے یہ شبہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ گولی پیچھے سے لگی ہو۔ اور اگر گولی پیچھے سے ماری گئی تو یقینی طور پر یہ واقعہ قتل کا ثابت ہوتا ہے۔
- رپورٹ کے مطابق چہرہ جسم کے باقی حصوں کی نسبت زیادہ خراب اور گل چکا تھا۔ اس کی اصل وجہ جاننے کے لیے کھوپڑی کا تفصیلی معائنہ ضروری تھا، لیکن پوسٹ مارٹم رپورٹ میں سر کی ہڈی ٹوٹنے یا کسی چوٹ کا ذکر نہیں ہے۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ چہرہ باقی جسم سے زیادہ کیوں خراب ہوا۔
- جائے وقوعہ سے خون ملنے کا ذکر نہیں کیا گیا، جبکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق گولی لگنے سے دل کی شریانیں متاثر ہوئیں اور سینے کے اندر کافی مقدار میں خون جمع تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گولی لگنے کے وقت شدید خون بہا تھا، لہٰذا جائے وقوعہ پر خون نہ ملنا ایک اہم سوال ہے۔
میر رضا کے اہلِخانہ کو چاہیے کہ وہ پولیس سرجن کو درخواست دے کر پوسٹ مارٹم رپورٹ کا دوبارہ جائزہ لینے اور اس کی تصدیق کرائیں۔ اگر پولیس سرجن قبر کشائی (Exhumation) کی سفارش کریں تو اہلِ خانہ کو اس عمل میں تعاون کرنا چاہیے تاکہ حقائق سامنے آسکیں۔ اس وقت میر رضا کیس ہائی پروفائل بنا ہوا ہے اس میں دیر کرنا پولیس کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان اٹھاتا ہے دیکھنا یہ ہے کہ پولیس اس کیس کو کیسے حل کرتی ہے کیونکہ اس کیس میں پولیس کو عوام اور اہلخانہ کو بھی مطمئن کرنا ہوگا۔
مندرجہ بالا تحریر رپورٹر کی ذاتی رائے پر مبنی ہے۔ اے آر وائی نیوز اور اس کی انتظامیہ کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں


