The news is by your side.

Advertisement

شبیر جان بجارانی کا پیپلزپارٹی چھوڑنے اور آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے کا اعلان

سکھر: سابقہ صوبائی وزیر مرحوم میر ہزار خان بجارانی کے فرزند سابق ایم این اے شبیر جان بجارانی نے پی پی پی سے بغاوت کرلی، پارٹی چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کی کوئی طاقت اب میرا فیصلہ بدل نہیں سکتی۔

تفصیلات کے مطابق سندھ میں پاکستان پیپلزپارٹی کو ایک بڑا دھچکا، رہنما شبیر بجارانی نے سکھر پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی چھوڑنے اور آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے کا اعلان کردیا۔

اس ہنگامی پریس کانفرنس میں انکے ساتھ پی ٹی آئی امیدوار محمد میاں سومرو اور جی ڈی اے رہنما علی گوہر مہر بھی موجود تھے۔

پریس کانفرنس میں شبیر بجارانی نے کہا کہ مرحوم والد سابق صوبائی وزیر میر ہزار خان بجارانی ہمیشہ سے پاکستان پیپلز پارٹی کا حصہ رہے ہیں،عزت نفس پر کبھی میرے والد اور خاندان نے سمجھوتہ نہیں کیا، میں بھی نہیں کروں گا ۔

ان کا کہنا تھا کہ آج بڑے دکھ سے اہم فیصلے سے آگاہ کرنا چاہتاہوں، والد نے 1968سے پیپلزپارٹی میں خدمات انجام دیں، والد نے شہید بی بی کے ساتھ کام کیا اور صوبائی صدر بھی رہے، ایم آر ڈی کی تحریک میں سکھرسے لیڈ کیا، ہر دکھ اور سکھ میں پیپلزپارٹی کے ساتھ کھڑے رہے، کشمورکی قومی صوبائی اسمبلی کی نشست سے ہمیشہ کامیاب ہوئے۔

شبیر بجارانی نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے والد کی وفات کے بعد نشست سے محروم کیا، آر اونے میرے خلاف پٹیشن دائر کرائی جو مسترد ہوئی، اپنی ہی پارٹی کے عابد سنجرانی میرے خلاف آخر تک کھڑے رہے، پارٹی قیادت کو مستقل بتاتا رہا مگر کوئی جواب نہیں ملا ، اب پی پی پی کو پتا چلے گا میرا ہونا کیا تھا اور میرا نہ ہونا کیا ہے۔

پی پی رہنما کا کہنا تھا کہ اپنے علاقے سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکش لڑوں گا، دنیا کی کوئی طاقت اب میرا فیصلہ بدل نہیں سکتی ، الیکشن کے بعد کسی پارٹی میں شمولیت کا اعلان کروں گا، پاکستان پیپلز پارٹی کے لیے میرے والد کی بڑی قربانیاں ہیں لیکن ہمیں دیوار سے لگایا جارہا ہے مگر پی پی پی کو یہ دکھا دوں گا کہ علاقے میں میری حیثیت کیا ہے۔

شبیر بجارانی نے مزید کہا کہ شکارپور میں بھی ہمارا قبیلہ ہے، وہاں شہریار مہر کو سپورٹ کریں گے، آغا تیمور خان کو بھی سپورٹ کریں گے، علی گوہر خان سے میٹنگ ہوگی مل کر محاذ میں محنت کریں گے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں