The news is by your side.

Advertisement

مشہور شاعر میر تقی میر کی ایک نعت

کائنات کا ذرّہ ذرّہ بہارِ عظیم کا منتظر،‌ شجر، حجر، بحر و برّ سبھی ایک نہایت روشن، دمکتی ہوئی ساعت اور مہکتی ہوئی گھڑی کا چرچا سُن رہے ہیں۔

ہر طرف، ہر سُو اللہ کے محبوب، فخرِ کائنات، رحمتُ للعالمین، سیّدُ الانبیا نبیِ آخر الزّماں حضرت محمد ﷺ کی آمد کا جشن منایا جارہا ہے اور عشقِ رسول سے ہر دل منور و تاباں ہے۔ اس عشق کا وصف یہ ہے کہ وہ اظہار چاہتا ہے اور دنیائے سخن کے میر، جنھیں‌ ہم میر تقی میر کے نام سے جانتے ہیں، انھوں‌ نے بھی بارگاہِ رسالت مآبﷺ میں‌ اپنی عقیدت اور محبّت کا اظہار کیا ہے جس سے چند منتخب بند ملاحظہ ہوں۔

کیا سیہ کاری نے منھ کالا کیا
بات کرنے کا نہیں کچھ منھ رہا
رحم کر خاکِ مذلت سے اٹھا
میرے عفوِ جرم کی تخصیص کیا
رحمۃ لِلعالمینی یا رسول
ہم شفیع المذنبینی یا رسول

دہر زیرِ سایۂ لطفِ عمیم
خلق سب وابستۂ خلقِ عظیم
تجھ سے جویائے کرم، عاصم اثیم
سخت حاجت مند ہیں ہم تو کریم
رحمۃ للعالمینی یا رسول
ہم شفیع المذنبینی یا رسول

ہو رہے ہیں ہم جو دوزخ کے حطب
سر پہ یہ اعمال لائے ہیں غضب
رکھتے ہیں چشمِ عنایت تجھ سے سب
تجھ سوا کس سے کہیں احوال اب
رحمۃ لِلعالمینی یا رسول
ہم شفیع المذنبینی یا رسول

نیک و بد تیرے ثنا خوانِ ہمم
لطف تیرا آرزو بخشِ اُمم
ملتفت ہو تُو، تو کاہے کا ہے غم
تُو رحیم اور مستحقِ رحم ہم
رحمۃ لِلعالمینی یا رسول
ہم شفیع المذنبینی یا رسول

روؤں ہوں شرمِ گنہ سے زار زار
بے عنایت کچھ نہیں اسلوب کار
دل کو جب ہوتا ہے آکر اضطرار
زیرِ لب کہتا ہوں یہ میں بار بار
رحمۃ لِلعالمینی یا رسول
ہم شفیع المذنبینی یا رسول

سبز برپا ہوگا جب تیرا نشاں
آفتابِ حشر میں بہرِ اماں
ہووے گی انواعِ خلقت جمع واں
کیوں نہ ہو سائے میں اس کے دو جہاں
رحمۃ للعالمینی یا رسول
ہم شفیع المذنبینی یا رسول

Comments

یہ بھی پڑھیں