The news is by your side.

Advertisement

سکندرِ اعظم اور میر تقی میر

سکندر کا نام ایک عظیم فاتح کی حیثیت سے تاریخِ عالم میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔ ‘سکندرِ اعظم’ یا ‘الیگزینڈر دی گریٹ’ کے بارے میں‌ کہا جاتا ہے کہ اس نے نوجوانی ہی میں لگ بھگ آدھی دنیا فتح کر لی تھی اور زندگی وفا کرتی تو شاید وہ پوری دنیا کا فاتح بن جاتا۔

شاید آپ نے بھی کسی کو اس کی مسلسل اور شان دار کام یابیوں پر مبارک باد دیتے ہوئے ‘مقدّر کا سکندر’ کہا ہو، لیکن سکندرِ اعظم جیسا خوش بخت تاریخ میں‌ شاذ ہی ملے گا۔ سکندر نے کئی جنگیں لڑیں۔ تاریخ‌ میں اس کے ایسے کئی کارناموں کا ذکر کیا گیا ہے جنھیں عظیم اور بے مثال کہا جاسکتا ہے۔

محققین نے لکھا ہے کہ وہ میسیڈونیا (مقدونیہ) کے شاہی خاندان کا فرد تھا جس نے 356 قبلِ مسیح میں جنم لیا۔ بہت کم عرصے میں اس کی حکومت یورپ سے لے کر ایشیا تک پھیل گئی تھی۔ سکندرِ اعظم کی سلطنت یونان سے لے کر ترکی، شام، مصر، ایران، عراق اور ہندوستان تک پھیلی ہوئی تھی۔

فارس کی فتح کے بعد سکندر نے ہندوستان کا راستہ دیکھا، جہاں راجہ پورس اس کے مقابلے پر آیا، لیکن کہتے ہیں‌ کہ سکندر نے اسے شکست دینے کے باوجود اس لیے بخش دیا کہ وہ ایک جواں مرد اور جری و بہادر تھا۔ ہندوستان میں سکندر کی آمد اور یہاں مختلف علاقوں سے ہوکر دریائے جہلم کے کنارے راجہ پورس کی فوج سے لڑائی اور فتح کا ذکر بھی تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہے۔ یونانی مؤرخین جن میں آرین، اسٹربیو اور دوسرے شامل ہیں، اس بات پر متّفق ہیں کہ سکندر 626 قبلِ مسیح میں ٹیکسلا سے ہوتا ہوا دریائے جہلم کے کنارے پہنچا تھا۔ یہاں کا علاقہ راجہ پورس کے زیرِ نگیں تھا۔ راجہ پورس کی ریاست کوئی بڑی ریاست نہیں تھی۔ پورس نے سکندر کی اطاعت قبول نہ کی تو مقابلہ شروع ہو گیا۔ پورس کی فوج نے یونانیوں کو دریا کے دوسری جانب روکے رکھنے کی کوشش کی، مگر ایسا نہ ہوسکا اور پورس کی فوج کو شکست ہوگئی۔

سکندرِ اعظم کی عظمت کا ترانہ تو شاید رہتی دنیا تک پڑھا جائے گا، اور اردو کے ایک عظیم شاعر میر تقی میر نے بھی اپنے اشعار میں‌ اس کی شان و شوکت کا ذکر کیا ہے، لیکن ساتھ ہی اُس حقیقت کو ہمارے سامنے رکھ دیا ہے، جسے ہر دور کا حاکم، صاحبِ اختیار، اور دولت مند فراموش کیے رہتا ہے، یہاں تک کہ ایک دن اس کا وجود خاک میں مل جاتا ہے۔ میر تقی میر کے اشعار ملاحظہ کیجیے۔

صاحبِ جاہ وشوکت و اقبال
اک اذاں جملہ اب سکندر تھا

تھی یہ سب کائنات زیرِ نگیں
ساتھ مور و ملخ سا لشکر تھا

لعل و یاقوت ، ہم زر و گوہر
چاہیے جس قدر، میسر تھا

آخرِ کار جب جہاں سے گیا
ہاتھ خالی، کفن سے باہر تھا

Comments

یہ بھی پڑھیں