The news is by your side.

Advertisement

داد اور دادا!

لکھنؤ میں ایک روز میر اور سودا کے کلام پر دو اشخاص میں تکرار ہو گئی۔

دونوں خواجہ باسط کے مرید تھے۔ بحث طول پکڑ رہی تھی اور دونوں میں کسی بات پر اتفاق نہ ہوسکا۔ تب دونوں خواجہ باسط کے پاس پہنچے اور اپنا معاملہ ان کے سامنے رکھا۔

”اس پر آپ کچھ فرمائیں۔“ انھوں نے کچھ دیر غور کرنے کے بعد کہا۔

”دونوں صاحبِ کمال ہیں، مگر فرق اتنا ہے کہ میر صاحب کا کلام ’آہ‘ اور مرزا صاحب کا کلام’واہ‘ ہے۔ یہ کہہ کر میر صاحب کا شعر بھی پڑھ ڈالا۔

سرہانے میر کے آہستہ بولو
ابھی ٹک روتے روتے سو گیا ہے

اس کے بعد مرزا کا شعر پڑھا۔

سودا کی جو بالیں پہ گیا شورِ قیامت
خدامِ ادب بولے، ابھی آنکھ لگی ہے

ان میں سے ایک شخص، جو سودا کا طرف دار تھا، ان کے پاس پہنچا اور اپنی تکرار اور خواجہ باسط سے ملاقات کا احوال بھی بیان کر دیا۔ سودا نے جب میر کا شعر سنا تو مسکرائے اور بولے۔

”شعر تو میر صاحب کا ہے، مگر داد خواہی ان کے دادا کی معلوم ہوتی ہے۔“

Comments

یہ بھی پڑھیں