The news is by your side.

Advertisement

میر واعظ عمر فاروق کا آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ کی فوری منسوخی کا مطالبہ

سری نگر : حریت کانفرنس کے چیئر مین میر واعظ عمر فاروق نے بھارت سے مقبوضہ علاقے میں رائج کالے قانون آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ کی فوری منسوخی کا مطالبہ کردیا۔

تفصیلات کے مطابق حریت کانفرنس کے چیئر مین میر واعظ عمر فاروق نے انسانی حقوق پامالی کے واقعات پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے بھارت سے مقبوضہ علاقے میں رائج کالے قانون آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ کی فوری منسوخی کا مطالبہ کردیا اور کہا کہ بھارتی فورسز اس قانون کے زریعے نہتے کشمیریوں کی زندگیوں سے کھیل رہی ہے۔

میر واعظ عمر فاروق نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ پچھلے 30 سالوں سے بھارتی فورسز کی جانب سے اس کالے اور ظالمانہ قانون افسپا کے ذریعے نہتے کشمیریوں کی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ کیا جارہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم طویل عرصے سے اس آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ کی منسوخی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

میر واعظ نے ایک بار پھر اس کالے قانون کی منسوخی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگربھارت شمال مشرقی ریاستوں سے اس قانون کو منسوخ کر سکتا ہے تو جموں وکشمیر سے بھی فوری طور پر منسوخ کیا جانا چاہیے، جہاں 8لاکھ سے زائد بھارتی فوجیوں کو افسپا کے ذریعے نہتے کشمیریوں کے قتل کی کھلی چھوٹ حاصل ہے۔

دوسری جانب میڈیا رپورٹس میں بھارتی وزارت داخلہ کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ میگھالیہ اوراروناچل پردیش میں آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ کو منسوخ کر دیاگیا ہے ۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے جموں وکشمیر کے متنازعہ علاقے کے ساتھ بھارت کا امتیازی سلوک ظاہر ہوتا ہے جہاں اس قانون کے تحت بے گناہ کشمیریوں کو مسلسل نشانہ بنایا جارہا ہے۔

یاد رہے انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ اور کئی دیگر تنظیمیں کشمیر میں نافذ کالے قانون آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ کو دنیا کا بدترین قانون قراردے چکی ہیں۔

خیال رہے کہ 1990ء میں پوری وادٔ کشمیر اور جموں ریجن کو شورش زدہ قرار دیا گیا تھا، جس کے بعد متنازعہ قانون آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ کو لاگو کردیا گیا تھا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں