The news is by your side.

Advertisement

“اونھ” کی تباہ کاریاں!

خدا اس “اُونھ” سے بچائے جس کی زبان پر آیا اُس کو تباہ کیا، جس گھر میں گھسا اس کا ستیا ناس کیا اور جس ملک میں پھیلا اس میں گدھے کے ہل چلوا دیے۔ ثبوت درکار ہو تو دنیا کی تاریخ اُٹھا کر دیکھ لو کہ اس اونھ نے زمانے کے کیا کیا رنگ بدلے ہیں۔

طالبِ علموں میں دیکھو، اونھ کا زور سب سے زیادہ انہی میں پائو گے۔ سال بھر گزار دیا۔ امتحان کا خیال آیا تو اونھ کر دی یعنی کل سے پڑھیں گے… آخر یہ اونھ یہاں تک کھینچی کہ امتحان آگیا۔ فیل ہوئے۔ اس فیل ہونے پر بھی اونھ کر دی۔

بہت ہی بامعنٰی ہوتی ہے۔ اس کے ایک معنٰی تو یہ ہیں کہ باپ زندہ ہیں، کھانے پینے اور اڑانے کو مفت ملتا ہے۔ اگر وہ بھی مر گئے تو جائیداد موجود ہے۔ قرضہ دینے کو ساہوکار تیار ہیں۔

پھر پڑھ لکھ کر کیوں اپنا وقت ضایع کریں۔ دوسرے معنٰی یہ ہیں کہ ابھی ہماری عمر ہی کیا ہے۔ صرف اٹھارہ برس ہی کی تو ہے۔ اگر مڈل کے امتحان میں دو چار بار فیل ہوچکے ہیں تو کیا حرج ہے۔ تیس سال کی عمر تک بھی انٹرنس پاس کر لیا تو سفارش کے بل پر کہیں نہ کہیں چپک ہی جائیں گے۔ یا کم از کم ولایت جانے کا قرضہ تو ضرور مل جائے گا اور ذرا کوشش کی تو بعد میں معاف ہوسکے گا۔

اس فیل ہونے پر ادھر انھوں نے اونھ کی اُدھر ماں باپ نے اونھ کی۔ اس صورت میں ابّا اور امّاں کی اونھ کا دوسرا مطلب ہے یعنی یہ کہ بچہ ابھی فیل ہوا ہے، دل ٹوٹا ہوا ہے۔ ذرا کچھ کہا تو ایسا نہ ہو کہ رو رو کر اپنی جان ہلکان کرے یا کہیں جا کر ڈوب مرے۔ غرض اس اونھ نے صاحبزادہ صاحب کی تعلیم کا خاتمہ بالخیر کیا۔

(فرحت اللہ بیگ کے شگفتہ قلم سے)

Comments

یہ بھی پڑھیں