مرزا غالب جتنے بڑے شاعر تھے اتنے ہی بلکہ اس سے کچھ زیادہ ہی دانش مند اور دور اندیش آدمی تھے۔ انھیں معلوم تھا کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب ان کے وطن میں ان کا کلام سخن فہموں کے ہاتھوں سے نکل کر ہم جیسے طرف داروں کے ہاتھ پڑ جائے گا اس لیے انہوں نے باکمال ہوشیاری یہ مشورہ دیا تھا کہ بھائیو! میرا فارسی کلام پڑھو اور اردو کلام سے احتراز کرو کیونکہ اس میں میرا رنگ ہے نہیں۔
لیکن ان سے غلطی یہ ہوئی کہ یہ مشورہ انہوں نے بزبانِ فارسی دیا اور یہ شعر ان کے اردو دیوان میں شامل نہیں کیا جا سکا۔ ادب بھی شطرنج کا کھیل ہے اور کون سی چال الٹی پڑے گی یہ بعد میں معلوم ہوتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ غالب قیدِ حیات سے تو چھوٹے لیکن بندِ غم سے نہیں چھوٹ سکے۔ یہ بندِ غم ان کے شارحین اور ناقدین کی دین ہے۔ عطائے تو، لقائے تو اسے ہی کہتے ہیں۔
ہمارے ہاں غالب شناسی کا رواج کوئی 50 سال پہلے شروع ہوا ہوگا۔ شروع شروع میں یہ بڑا مشکل کام تھا اور صرف پڑھے لکھے لوگ غالب کی طرف متوجہ ہوا کرتے تھے۔ جسے بھی اپنی عمر کے بیشتر حصے کی تباہی اور اپنی صحت کی بربادی مقصود ہوتی وہ غالب کے کلام کی شرح لکھنے کا کام اپنے ذمے لیتا۔ رفتہ رفتہ یہ فن فیشن بن گیا اور پھراس فن نے مرض کی صورت اختیار کر لی۔ غالب صدی میں تو ہر شخص غالب کے اشعار گنگنانے لگا۔ بے روزگار نوجوان اپنی ملازمت کی درخواستوں میں یہ لکھنے لگے کہ وہ کبڈی اور کیرم کے علاوہ غالب بھی جانتے ہیں۔ معزز لوگوں نے محفلوں میں اعلان کرنا شروع کیا کہ ان کی ہابی غالب ہیں اورایک اونچے درجے کے کلب کی صدارت کے امیدوار کے حق میں یہ کہہ کرووٹ حاصل کیے گئے کہ موصوف گولف اورغالب دونوں کے ماہر ہیں۔ کہا جاتا ہے ایک زمانے میں ایسا کڑا وقت فرانس پر بھی آیا تھا جب ہر شخص کو پکاسو کی (اصلی یا جعلی) پینٹنگ اپنے دیوان خانے میں لٹکانی پڑی تھی اورآرٹ کی دلدادہ خواتین میں سے چند نے اپنے شوہروں سے صرف اس لیے طلاق حاصل کر لی تھی کہ ان کے شوہر پکاسو کے فن پر بحث نہیں کرسکتے تھے۔ (حالانکہ یہ بحث صرف دو منٹ کی ہوتی تھی)
غنیمت ہے کہ ہمارے ہاں غالب نے لوگوں کی ازدواجی زندگی میں کوئی رخنہ نہیں ڈالا۔ وہ صرف مردانے میں رہے۔ ممکن ہے کہ اس کی یہ وجہ بھی رہی ہو کہ ہمارے ہاں خواتین کا ذوق ابھی اتنا بگڑا نہیں ہے کہ وہ غالب پر بات چیت کر کے زیور، لباس اورغیر حاضر خواتین کےعیوب جیسے اہم مسائل کو نظرانداز کر دیں۔
غالب بہت مقبول شاعر ہیں اوران کے کتنے ہی مصرعے لوگوں کو ازبر ہیں۔ بہتوں کو تو پورے پورے شعر بھی یاد ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ وہ دوسرے مصرعے کو پہلے مصرعے سے پہلے پڑھتے ہیں۔ لیکن اس میں کوئی قباحت نہیں ہے کیونکہ شاعری کوئی کرکٹ کا کھیل نہیں ہے کہ دوسری اننگ پہلی اننگ کے بعد ہی کھیلی جائے۔ یوں بھی غالب مصرعوں میں زیادہ پسند کیے جانے کے لائق شاعر ہیں۔ انہوں نے دس بیس مصرعے تو اس غضب کے کہے ہیں کہ ہر ضرورت کو پورا کرتے ہیں اور اگر وہ صرف مصرعے ہی کہتے، تب بھی اتنے ہی بڑے شاعر ہوتے جتنے کہ وہ مکمل شعر کہنے کی وجہ سے ہیں۔ ان کی شاعری کا یہ پہلو غالب صدی کے دوران ہم سب کے سامنے آیا۔
جشنِ غالب کے سلسلے میں جتنے بھی جلسے ہوئے ان سب جلسوں کے اناؤنسر غالب کے مصرعوں سے پوری طرح لیس تھے جو بھی جلسہ یا مشاعرہ ہوا اس مصرعے سے شروع ہوا…. ہوئی تاخیر تو کچھ باعث ِتاخیر بھی تھا
صدر جلسہ کے تعارف کے سلسلے میں کہا گیا، وہ آئیں گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہے
پتا نہیں اس مصرعے سے اناؤنسر صاحب کی کیا مراد تھی۔ ممکن ہے وہ صدرِ جلسہ کو خدا کی قدرت کا نمونہ کہنا چاہ رہے ہوں۔ مہمان خصوصی کی تعریف کے پل کے لیے اس مصرعے کو سنگِ بنیاد قرار دیا گیا…… کہتا ہوں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے!
ان جلسوں میں مہمان خصوصی کا انتخاب عموماً طبقۂ اناث ہی سے کیا جاتا تھا اور غالب کے کئی مصرعے ان پر صرف کیے جاتے تھے۔
غالب صدی کی وجہ سے کچھ دلدوز واقعات بھی ہوئے۔ کچھ لوگ غالب کی محبت میں اتنے آگے نکل گئے کہ واپس آنے کا راستہ بھول گئے۔ ایک صاحب نے انہی دنوں اپنا سر نیم غالبی مقرر کر لیا اور وہ مرزا احمد اللہ بیگ غالبی کہلانے لگے۔ (کچھ لوگ تو انھیں غالباً بھی کہتے تھے) اس سال انہوں نے باضابطہ حلف اٹھایا تھا کہ وہ کوئی کام غالب کے دیوان سے مدد لیے بغیر نہیں کریں گے۔ اتفاق سے اسی سال ان کے ہاں ایک فرزند کی ولادت عمل میں آئی۔ دوستوں نے گھر آکر مبارکباد دی تو انہوں نے مبارکباد کے جواب میں ارشاد فرمایا،
مجھے دماغ نہیں خندہ ہائے بے جا کا
دوستوں میں سے کسی نے پوچھا مرزاصاحب، اس مصرعے کا یہاں کیا موقع تھا۔ بولے میں سب جانتا ہوں،
ہتھکنڈے ہیں چرخِ نیلی فام کے
مرزا صاحب پیشے سے ڈاکٹر ہیں۔ ڈاکٹری ٹھیک ٹھاک چل رہی تھی لیکن غالب کا کچھ ایسا جنون ان پر سوار ہوا کہ پھر یہ کہیں کے نہیں رہے، ایک معزز گھرانے کی خاتون ان سے فون پر اپنے مرض کی کیفیت بیان کر رہی تھیں۔ مریضہ نے جب ان سے کہا کہ مرزا صاحب میری کمر میں بھی درد ہوتا ہے تو مرزا صاحب نے فون پر ہی جھوم کر کہا ہاں ہاں یقیناً ہوتا ہوگا،
کیا جانتا نہیں ہوں تمہاری کمر کو میں
ایک اور مریضہ کے ساتھ بھی تقریباً ایسا ہی واقعہ ہوا۔ ڈاکٹر صاحب اپنے مطب میں مریضہ کا معائنہ فرما رہے تھے اور ساتھ ہی ساتھ زیرِ لب گنگنا رہے تھے،
تجھے کس تمنا سے ہم دیکھتے ہیں
اس دن نہ صرف اس مریضہ کا نقشِ قدم ان کے سر پر پڑا بلکہ ان دونوں خواتین کے شوہروں نے انھیں عدالت میں بھی گھسیٹ لیا اور بجائے اس کے کہ مرزا صاحب راہِ راست پر قدم رنجہ فرمانے کی کوشش کرتے، فخریہ فرماتے رہے ان مقدموں سے کیا ہوتا ہے،
رنگ کھلتا جائے ہے جتنا کہ اڑتا جائے ہے
ان پر غالبی رنگ چڑھتا ہی گیا اور ایک میٹرنٹی ہوم کے سنگِ بنیاد رکھنے کے لئے جب شہر کی خاتونِ اوّل نے اپنے حنا آلودہ ہاتھوں سے مخصوص پتھر کو چھوا تو مرزا صاحب نے بآوازِ بلند اپنے محبوب شاعر کا مصرعہ پڑھ دیا،
خاک ایسی زندگی پہ کہ پتھر نہیں ہوں میں
اسی وقت ان کا نام درج رجسٹر کر لیا گیا اور اس کے بعد کچھ ایسے واقعات ہوئے کہ عشق کے بعد ہی ان کے دماغ میں خلل آگیا۔
غالب شناسی کے ایسے مہلک حادثے اور بھی ہوئے ہیں لیکن غالب کے نام کا فیض بھی جاری ہے اور کبھی کبھی جی چاہتا ہے کہ کاش غالب آج ہمارے درمیان موجود ہوتے۔ ہم انھیں بڑے اہتمام سے کسی کل ہند مشاعرے میں بلواتے اور انھیں کے معیار کے کسی اچھے اناؤنسر کا انتخاب کرتے۔ مشاعرے کے ڈائس پر انھیں کسی ڈائمنڈ جوبلی کرنے والی فلم کی ہیروئن کے بالکل متصل نہ سہی، اس کے قرب و جوار میں جگہ دیتے۔ کسی ہیرو سے ان کی گل پوشی کرواتے اور تھوڑا بہت ان کا کلام بھی سنتے۔ غالب یقیناً خوش ہوتے اور انھیں یہ شکایت نہ ہوتی کہ شاعری میں عزّت نہیں ہوا کرتی۔
(مرزا غالب کے یومِ وفات کی مناسبت سے ممتاز طنز و مزاح نگار یوسف ناظم کی ایک شگفتہ تحریر)
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


