The news is by your side.

Advertisement

کیا دنیا میں آپ سے بڑھ کر بھی کوئی بلا ہے؟

اسد اللہ خاں جنھیں دنیا مرزا غالب کے نام سے جانتی ہے، ان کی نکتہ آفرینی ہی نہیں شوخی، ظرافت اور مزاح بھی مشہور ہے۔ اردو کے نام ور ادیبوں، تذکرہ نویسوں اور سوانح نگاروں نے مرزا غالب کی ظرافت سے متعلق متعدد واقعات اور ادبی لطائف نقل اور بیان کیے ہیں۔

مشہور ہے کہ مرزا غالب کی بیگم ان کی مے نوشی سے سخت بیزار اور پریشان رہتی تھیں۔ یہی نہیں بلکہ انھیں نماز نہ پڑھنے اور روزہ نہ رکھنے پر بھی ٹوکتی تھیں اور مرزا ہر بار کوئی نہ کوئی بہانہ کردیتے یا اپنی حسِّ مزاح سے کام لیتے اور ایسی بات کردیتے کہ کوئی بھی ہار مان کر چپ ہوجانے میں ہی اپنی عافیت جانتا۔

مرزا غالب ؔ کی کوئی اولاد بھی بچپن نہ دیکھ سکی جس کا ان کی زوجہ کوسخت صدمہ اور قلق تھا اور وہ آزردہ خاطر رہتیں۔ غالبؔ ایک دردمند اور حساس طبع انسان ہونے کے ناتے ان کا یہ دکھ خوب سمجھتے تھے، اس لیے وہ ان کی دل دہی اور انھیں بہلانے کی خاطر اکثر ان سے متعلق شگفتہ بیانی اور مزاح سے کام لیتے تھے۔ ایسا ہی ایک واقعہ ادبی تذکروں یوں بیان کیا گیا ہے۔ یہ واقعہ ڈاکٹر محمد عطااللہ خان کی تحقیق و جستجو کا نتیجہ ہے۔

ایک دفعہ غالب مکان بدلنا چاہتے تھے۔ ایک مکان آپ خود دیکھ کر آئے۔ اس کا دیوان خانہ پسند آگیا، مگر محل سرا نہ دیکھ سکے۔ گھر پر آکر اس کو دیکھنے کے لیے بیوی کو بھیجا۔ وہ دیکھ کر آئیں تو غالبؔ نے بیوی سے پوچھا۔

”مکان پسند آیا یا نہیں؟“ انھوں نے کہا کہ اس میں بلئیات ہیں۔

مرزا غالب نے کہا ”کیا دنیا میں آپ سے بڑھ کر بھی کوئی بلا ہے۔“

Comments

یہ بھی پڑھیں