The news is by your side.

Advertisement

مرزا غالب، مغربی دانش وروں کی نظر میں

نام وَر نکتہ شناس اور معنی آفریں شاعر غالب کی شخصیت اور شاعری کو بعض مغربی دانش وروں نے بھی قابلِ اعتنا سمجھا ہے، مگر ان قابلِ ذکر ناموں کے لیے ایک ہاتھ کی انگلیاں بھی زیادہ ہیں۔

لے دے کے الساندرو باﺅزانی، رالف رسل، نتالیہ پریگارنیا اور این میری شمل کے نام لیے جاسکتے ہیں جن کا غالب کے فکر و فن پر تحریری سرمایہ قابلِ قدر ہونے کے باوجود اس امر کا متقاضی ہے کہ کوئی وسیع لسانی پس منظر رکھنے والا شعر شناس عالم اور ماہر غالبیات اس کا گہرا لسانی اور تجزیاتی مطالعہ کرکے بے لاگ انداز میں اپنے نتائجِ تحقیق پیش کرے۔

این میری شمل کا شمار ممتاز جرمن مستشرقین میں ہوتا ہے، مگر غالب پر ان کی تحریریں بعض جہتوں سے فکر افروز ہونے کے باوجود بحیثیت مجموعی اطمینان بخش نہیں۔ خصوصاً بعض اردو اور فارسی اشعار کے ترجمے میں انھوں نے متعدد جگہ ٹھوکریں کھائی ہیں۔ کہیں کہیں یہ ترجمے مضحکہ خیز حد تک غلط ہیں۔ علاوہ ازیں ان تحریروں میں بعض واقعاتی غلطیاں بھی جا بجا ملتی ہیں۔

قاری کو یہ احساس شدت سے ہوتا ہے کہ شمل کا فارسی زبان و ادب کا مطالعہ ناقص ہے اور یہ احساس صرف غالب پر ان کی تحریروں تک محدود نہیں بلکہ بعض دیگر کتب کے مطالعے سے بھی ہوتا ہے۔

این میری شمل جرمن استشراق کی روایت میں اِس اعتبار سے تو قابلِ توجہ قرار پاتی ہیں کہ ان کے علمی کاموں میں غیرمعمولی تنوع ہے، مگر متعدد ادبیات کے حوالے سے یہ کارنامے بہت سی خامیوں اور بعض صورتوں میں فاش غلطیوں کا شکار بھی نظر آتے ہیں۔ کثرت نویسی کی یہ قیمت تو دینا ہی پڑتی ہے۔

غالب سے این میری شمل کا لگاﺅ گمان ہے کہ اقبال سے گہرے معنوی تقرب کے نتیجے میں پیدا ہوا ہوگا۔ حقیقت جو بھی ہو، یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ شمل کے غالب پر مطالعات کا زمانہ نہ صرف یہ کہ زیادہ طویل نہیں بلکہ خود یہ مطالعات ایک حد تک ہی اطمینان بخش کہے جاسکتے ہیں تاہم اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ان مطالعات کے بعض مباحث بڑے عمدہ اور فکر کو مہمیز کرتے ہیں۔

( ممتاز نقاد، محقق اور شاعر ڈاکٹر تحسین فراقی کے ایک مضمون سے چند سطور)

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں