کلرک کے کمرے سے کپتانی کے دوام تک -
The news is by your side.

Advertisement

کلرک کے کمرے سے کپتانی کے دوام تک

تحریر: سلطان محمود خان

کپتانی پھولوں کا سیج نہیں‘ خاص طور پر پاکستان میں اور وہ بھی اس وقت جب پاکستان کرکٹ پر اسپاٹ فکسنگ کا داغ لگا ہو‘ کوئی آپ سے کھیلنے کو تیار نہ ہو۔

پاکستان کے تین بہترین کھلاڑی سلمان بٹ، محمد آصف اور محمدعامر پر کرکٹ کے دروازے بند کردئیے ہوں، ایسے میں کانٹوں سے بھرا سیج مصباح الحق کو اس وقت سونپ دیا گیا جب وہ خود مسائل کا شکار تھے۔ ٹیم سے باہر تھے اور بدقسمت دورہ انگلینڈ کے پینتس کھلاڑیوں میں شامل نہ ہونے پر اتنے مایوس تھے کہ کرکٹ کٹ جلانے کا سوچ رہے تھے۔

دوہزار دس میں مصباح فیصل آباد میں نیشنل ٹی ٹوئنٹی کھیل رہے تھے کہ ان کا موبائل فون بجا۔ پی سی بی آفس کے ٹیلی فون آپریٹر نے کہا چیئرمین پی سی بی اعجاز بٹ آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔

misbah-post-1

مصباح لاہور پہنچے‘ کہا گیا کہ اس ملاقات کے بارے میں آپ نے کسی سے کچھ بھی نہیں کہنا ، یہاں تک کہ اپنی فیملی سے بھی نہیں، اعجاز بٹ نے خفیہ میٹنگ پی سی بی ہیڈ کوارٹرز میں کلرک کے کمرے میں رکھی اور وہیں مصباح کو کپتان بننے کے لئے کہا گیا۔مصباح پریشان ہو گئے۔ کیا تو وہ ٹیم میں نہ تھے‘ اور کیا وہ کپتان ہوں گے۔ انہوں نے سوچنے کو وقت مانگ لیالیکن پھر مان گئے۔

اکتوبر دو ہزار دس میں مصباح نے ٹیم کی باگ ڈور سنبھالی تو اس وقت انگلینڈ کے سابق کپتان آئن بوتھم پاکستان پر ٹیسٹ کرکٹ کے دروازے بند کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔پاکستان ٹیم ناکامیوں کے علاوہ اسپاٹ فکسنگ کے الزامات کی زد میں تھی، پاکستان تین اہم کھلاڑیوں سے محروم تھا، رینکنگ میں چھٹا نمبر تھا، پاکستان ٹیم پوری طرح ٹوٹ چکی تھی۔ مصباح کی کپتانی کا پہلا امتحان متحدہ عرب امارات میں جنوبی افریقہ کی میزبانی تھی، جو مصباح نے بخوبی انجام دی۔ سیریز نتیجہ خیز رہی جنوبی افریقہ کی بہترین ٹیم پاکستان کو دونوں ٹیسٹ میں ہرانے میں ناکام رہی۔ مصباح کی مستقل مزاجی اورمستحکم بیٹنگ کا آغاز اسی سیریز سے ہوا، مشکل وقت میں ہمیشہ محتاط بیٹنگ کی اور ہربار ٹیم کو مکمل تباہی سے نکالا، انھیں مین آف کرائسز(مرد ِبحران) کہا جانے لگا۔

misbah-post-2

مصباح پاکستان کے وہ واحد کپتان ہیں جن کی قیادت میں پاکستان نے انگلینڈ کو وائٹ واش شکست دی ۔دبئی سے اوول تک پاکستان نے مصباح کی کپتانی میں ان چھ سالوں میں انچاس میں سے چوبیس ٹیسٹ میچ جوجیتے ہیں ان میں مصباح الحق کی کارکردگی نمایاں ہے۔ دورہ انگلینڈ میں بھی لارڈز ٹیسٹ کی جیت کا کریڈٹ جہاں یاسرشاہ کی دس وکٹوں کو جاتا ہے وہیں مصباح کی سنچری اور پھر پش اپس کو بھی جاتا ہے، جس نے قومی ٹیم میں نئی روح پھونک دی، دوسرے اور تیسرے ٹیسٹ میں پاکستان ٹیم لارڈز کی کارکردگی برقرار نہ رکھ سکی، نتیجہ دونوں میچز میں ناکامی کی صورت میں برداشت کرناپڑالیکن چوتھا ٹیسٹ جو اوول میں کھیلا جانا تھا مصباح اس ٹیسٹ میں جیت کیلئے پرامید تھے اور جشن آزادی پر قوم کو جیت کا تحفہ دینا چاہتے تھے، ٹیم میٹنگ میں بھی مصباح کھلاڑیوں سے اس بات کا ذکر کرچکے تھے۔ مصباح کی کپتانی میں پاکستان نے انگلینڈ کیخلاف آخری ٹیسٹ جیت کر سیریز دو دو سے برابر کرلی۔ مصباح نے انگلینڈ کے کپتان ایلسٹر کک کو فیصلہ کن ٹیسٹ کی پیشکش کی۔ جس پر کک نے جواب دیا کہ آپ لارڈز یا اوول پر کھیلنا چاہیں گے ، جس پر مصباح نے جواب دیا کہ نہیں ہم آپ کو اولڈ ٹریفورڈ اور ایجبسٹن میں بھی ہراسکتے ہیں۔ چوتھے ٹیسٹ میں کامیابی کے بعد پاکستان نے رینکنگ میں دوسری پوزیشن مزید مستحکم کرلی، بھارت اور ویسٹ انڈیز کے درمیان پورٹ آف اسپین ٹیسٹ بارش کی نظر ہوتے ہی پاکستان ٹیم دنیا کی نمبر ون ٹیم بن گئی۔

misbah-post-3

لاہور میں آئی سی سی کی تقریب میں پاکستان کےکامیاب ترین کپتان کو گرز پیش کیا گیا۔ مصباح نے اس اعزاز کو ورلڈ کپ جیتنے کے مترادف قرار دیا اور کہا کہ ورلڈ نمبر ون ہونے کی خوشی لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہوگا ۔اس طرح جس ٹیم کا سایہ چھ سال پہلےدھرتی پر بوجھ لگتا تھا آج آسمان جھک کر چوم رہا ہے۔ ایک غور طلب بات یہ بھی ہے کہ مصباح نے اپنا ہر میچ دیار غیر میں کھیلا ۔ پاکستان کے کامیاب ترین کپتان مصباح الحق کا کرائسٹ چرچ میں کپتانی کا گولڈن جوبلی ٹیسٹ ہوگا۔ پانچ برس قبل دوہزار گیارہ میں مصباح کی کپتانی میں پہلی فتح نیوزی لینڈ میں ملی اور اب یہی مصباح کےپاس جیت کی سلور جوبلی منانےکا موقع ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں