The news is by your side.

Advertisement

خدارا! زینب کے والدین کے ساتھ انصاف کریں اور قاتلوں کو سزا تک پہنچائیں ، مشال‌ خان کے والد

مردان : مشال خان کے والد محمد اقبال نے اپیل کی ہے کہ خدارا زینب کے والدین کے ساتھ انصاف کریں اور قاتلوں کو سزا تک پہنچائیں تاکہ آئندہ ایسے واقعات رونما نہ ہوسکیں۔

تفصیلات کے مطابق مشال خان کے والد نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ قصور میں زینب کے ساتھ  جو ناروا اور انسانیت سوز سلوک کیا گیا اور اسے جس ظالمانہ طریقے سے قتل کیا گیا، میں اپنے اور اپنے خاندان کی جانب سے اس کی شدید الفاط میں مذمت کرتا ہوں اور متاثرہ خاندان کے ساتھ انکے دکھ درد میں برابر کے شریک ہوں اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں ۔

انکا کہنا تھا کہ مشال خان شہید کے حوالے سے یہی کہا تھا کہ مشال خان تو واپس نہیں آسکتا لیکن ہر گھر کے بچے اور بچیاں مشال ہیں ، انکی زندگی کی حفاظت کی جائے لیکن 40 سال سے جو بیانیہ چل رہا ہے۔

مشال کے والد نے کہا کہ مشال خان کے قتل کے بعد بھی بہت سے افسوسناک اور درد ناک واقعات رونما ہوئے اور حال ہی میں سات بچی زینب کو جس بے دردی سے شہید کیا گیا یہ اس جاری بیانے کا ایک قصہ ہے۔

انکا مزید کہنا تھا کہ اگرمشال خان کے ساتھ انصاف کیا گیا ہوتا تو اور اس کے قاتل جو ویڈیوز میں مکمل طور پر واضح ہے، سزا تک پہنچا دیتے تو ایسے واقعات میں ضرور کمی آتی۔

محمد اقبال نے کہا میں مشال خان کے چاہنے والوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنا اخلاقی فرض پورا کریں اور زینب کے واقعے پر شدید احتجاج ریکارڈ کرائیں اور تمام ریاستی اداروں اور باب اختیار سے اپیل کرتا ہوں خدارا اس بچی کے والدین کے ساتھ انصاف کریں اور قاتلوں کو سزا تک پہنچائیں تاکہ آئندہ ایسے واقعات رونما نہ ہوسکیں ۔

خیال رہے کہ مردان کی ولی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے والے مشال خان کو گذشتہ سال 13 اپریل کو طالبِ علموں کے جم غفیر نے یونیورسٹی کمپلیکس میں اہانتِ مذہب کا الزام عائد کر کے بدترین تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد گولی مار کر قتل کردیا تھا۔

واضح رہے کہ قصور واقعے نے سب کے دل دہلا دیئے ہیں، کمسن زینب کو پانچ روز پہلے اغوا کیا گیا تھا، جس کے بعد سفاک درندوں نے بچی کو زیادتی نشانہ بنا کر قتل کردیا تھا، جس کے خلاف ملک بھر میں لوگ سراپا احتجاج ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں