The news is by your side.

Advertisement

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کی مذہبی معاملات سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو غلط رنگ دینے کی کوشش ناکام

لاہور : غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کی مذہبی معاملات سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو غلط رنگ دینے کی کوشش ناکام ہوگئی، جوئی ویلن نے  اپنی اسٹوری میں پاکستان میں اقلیتوں کے تحفظ کو خطرے میں ہونے سے متعلق بے بنیاد خبر شائع کی تھی۔

تفصیلات کے مطابق غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کی پاکستان میں مذہبی معاملات میں غلط رپورٹنگ کی گئی تاہم لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو غلط رنگ دینے کی کوشش ناکام ہوگئی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے دی ٹیلی گراف کے نمائندے جوئی ویلن نے حقائق کے برعکس لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ رپورٹ کیا، جوئی ویلن نے اپنی اسٹوری میں پاکستان میں اقلیتوں کے تحفظ کو خطرے میں ہونے سے متعلق بے بنیاد خبر شائع کی۔

لاہور ہائیکورٹ نے اسلام قبول کر کے پسند کی شادی کرنے والی لڑکی کو دارالامان سے آزاد کرنے کاحکم دے دیا، جسٹس راجہ شاہد محمود عباسی نے نقاش طارق کی درخواست پر تحریری حکم جاری کیا ۔

عدالت نے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ ماریہ شہباز اپنی خواہش کے مطابق اپنے شوہر یا جہاں چاہے رہ سکتی ہے، ماریہ شہباز بلوغت کی عمر کو پہنچ چکی ہے اور اس نے اپنی مرضی سے نکاح کیا ہے۔

ایڈیشنل سیشن جج فیصل آباد کا ماریہ شہبازکو دارالامان بھیجنے کا حکم سپریم کورٹ کے وضع کردہ اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ ماریہ شہباز نے عدالت میں پر اعتماد انداز میں کہا کہ اس کی عمر 18 برس سے زائد ہے اور وہ عاقل بالغ ہے، ماریہ شہباز نے کلمہ طیبہ پڑھا اور کہا کہ اس نے اپنی آزاد مرضی سے اسلام قبول کیا اور نقاش طارق سے نکاح کیا۔

عدالتی فیصلے کے مطابق ماریہ نے بیان دیا کہ اس کی والدہ نگہت شہباز نے میرے اغواء کا جھوٹا مقدمہ درج کروایا،اسے کسی نے اغواء نہیں کیا۔

ماریہ شہباز نے کمرہ عدالت میں کہا کہ اگر اسے والدین کے حوالے کیا گیا تو اسے قتل کئے جانے کا خدشہ ہے جبکہ اس نے شوہر نقاش طارق کے پہلے سے شادی شدہ ہونے کے حقائق کو تسلیم کیا اور اپنے خاوند کے ساتھ ہی رہنے کو ترجیح دی۔

عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ جسمانی لحاظ سے بلاشبہ ماریہ شہباز نوجوان خاتون ہے اور بلوغت کی عمر کو پہنچ چکی ہے، ماریہ شہباز کو موقع دیا گیا مگر اس نے ماں کے ساتھ جانے سے انکار کیا، ماریہ شہباز پولیس اور عدالتی فورم پر بھی نقاش طارق کو اپنا خاوند تسلیم کر چکی ہے۔

لاہور ہائیکورٹ کی یہ ذمہ داری نہیں کہ کسی کے نکاح کو جعلی یا حقیقی ہونے کی تصدیق کرے، فیملی عدالت نکاح نامہ کے بوگس یا درست ہونے کا فیصلہ کر سکتی ہے ، محض خدشات کی بنیاد پر کسی عاقل بالغ لڑکی کی آزادی کو صلب نہیں کیا جاسکتا۔

ماریہ شہباز بلوغت کی عمر کو پہنچ چکی ہے اور اپنی آزاد مرضی سے شادی کرنے اور آزادی سے زندگی گزارنے کی حقدار ہے، ماریہ شہباز کے اغواءکا مقدمہ 29 اپریل 2020ءکو تھانہ مدینہ ٹاﺅن فیصل آباد میں درج کروایا گیا، ماریہ کی ماں نے درخواست دی تھی کہ نقاش طارق، محمد محسن اور دیگر ملزموں نے 14 برس کی بیٹی ماریہ شہباز کو گن پوائنٹ پر اغواء کیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں