لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے کسی کو پرواہ نہیں، سندھ ہائی کورٹ
The news is by your side.

Advertisement

لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے کسی کو پرواہ نہیں، سندھ ہائی کورٹ

کراچی: سندھ ہائی کورٹ میں لاپتہ افراد کیس کی سماعت کے دوران جج نے کہا ہے کہ لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق کسی کوپرواہ نہیں ہرسماعت پرفوکل پرسن تبدیل ہوجاتا ہے، اگر پولیس کی کارکردگی بہترنہ ہوئی توسیکریٹری داخلہ کوبلائیں گے۔

تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں پچاس سے زائدلاپتہ افرادکی بازیابی کے حوالے سے کیس کی سماعت ہوئی سہراب گوٹھ سے لاپتہ شہری ظفراللہ کی گمشدگی کامقدمہ دوایس ایچ اوسمیت تین افرادکیخلاف درج پولیس نے رپورٹ عدالت میں پیش کردی ۔

پولیس کی جانب سے پیش کی جانے والی رپورٹ پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے شہری کی گمشدگی کے حوالے سے تفتیش ایس ایس پی ساوتھ کے حوالے کردی۔

عدالت نے محکمہ داخلہ،صوبائی ٹاسک فورس اورپولیس کی کارکردگی پربرہمی کااظہارکرتے ہوئے کہا کہ لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق کسی کوپرواہ نہیں ہرسماعت پرفوکل پرسن تبدیل ہوجاتاہے، پولیس کی کارکردگی بہترنہ ہوئی تو سیکریٹری داخلہ کوبلائیں گے۔

درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ لاپتہ افرادکی تفتیش کسی ایماندارپولیس افسرکے سپردکی جائے، جسٹس فاروق شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پولیس ایمانداری کی علامت ہے اگر ایسا نہیں تو ملک چلانا مشکل ہوجائے گا۔انہوں نے مزید ریمارکس میں کہا کہ پولیس کی کارکردگی بہترنہ ہوئی تو ملکی نظام ٹھپ ہوکررہ جائے گا۔

عدالت نے لاپتہ افرادکے اہلخانہ کے ڈی این اے لینے اور شہر سے برآمد ہونے والی ناقابل شناخت لاشوں کے ڈی این اے سے میچ کروانے کا حکم دیتے ہوئے رپورٹ 6 اپریل تک عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں