The news is by your side.

Advertisement

امریکا: 42 افراد کو کورونا ویکسین کی جگہ کوئی اور دوا لگ گئی، حکام کی دوڑیں

ورجینیا : امریکا کے ایک ویکسینیشن کلینک میں کورونا ویکسین کے بجائے مریضوں کو ریجینیرون مونوکلونل اینٹی باڈی (Regeneron monoclonal antibody) دے دی گئی۔

ریاست مغربی ورجینیا میں نیشنل گارڈ نے بتایا ہے کہ تین درجن سے زائد افراد کو موڈرینا ویکسین کی بجائے غلطی سے یہ اینٹی باڈی لگا دی گئی۔

ویکسینیشن کلینک میں جہاں بون کاؤنٹی ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کا عملہ اس کام پر مامور ہے، دورانِ علاج 42 افراد کو یہ اینٹی باڈی دی گئی۔

علاج کے اس طریقے میں مختلف اینٹی باڈیز کو جسم میں داخل کیا جاتا ہے جو جسم کے مدافعتی نظام کی طرح کام کرتی ہیں، اس طریقہ علاج کی اجازت ہنگامی بنیاد پر پچھلے سال نومبر میں فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کو دی گئی تھی۔

بون کاؤنٹی کے محکمہ صحت کے کے منتظم جولی ملر نے میڈیا کو بتایا کہ یہ اپنی نوعیت کا ایک مختلف واقعہ ہے۔

نیشنل گارڈ کے مطابق ٹاسک فورس کے ساتھ کام کرنے والے طبی ماہرین اس بات پر یقین نہیں رکھتے کہ ان 42 افراد کو کسی قسم کا خطرہ ہے یا انھیں‌ نقصان پہنچ سکتا ہے جب کہ ان تمام افراد سے رابطہ کیا گیا ہے جنہیں‌ یہ اینٹی باڈی دی گئی تھی۔

ریجینیرون کے مختلف اینٹی باڈیز پر مشتمل اس طریقہ علاج سے انسانی مدافعتی نظام اس وائرس کو پہچان لیتا ہے۔ اسے کوویڈ 19 کے علاج کے لیے وضع کیا گیا تھا، اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے اسی دوا کا انتظام کیا گیا تھا جب وہ کے وائرس سے متاثر ہوئے تھے۔

ورجینیا نیشنل گارڈ کی جانب سے ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ویکسینیشن کلینک میں اینٹی باڈیز لگائے جانے کا علم ہونے پر اس حوالے سے بہتری لاتے ہوئے تقسیم کاری کے نظام کا جائزہ لیا گیا ہے اور ایسے اقدامات کیے ہیں کہ آئندہ ایسی غلطی ہو۔

اس سلسلے میں مراکزِ صحّت کی تجویز ہے کہ احتیاط کے طور پر کم سے کم 90 دن تک ویکسینیشن مؤخر کردی جائے۔

ملر نے مزید کہا کہ بون ہیلتھ محکمہ داخلی پالیسیوں اور طریقہ کار کا جائزہ لینے کے لئے ریاستی نیشنل گارڈ اور ویسٹ ورجینیا ڈیپارٹمنٹ آف ہیلتھ اینڈ ہیومن ریسورسز کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں