نیوزی لینڈ کے آل راؤنڈر مچل سینٹنر نے دعویٰ کیا ہے کہ آئی پی ایل میں شرکت پر ممبئی انڈینز نے آدھی ادائیگی روک لی۔
نیوزی لینڈ کے آل راؤنڈر مچل سینٹنر آئی پی ایل 2026 میں ممبئی انڈینز کی نمائندگی کی لیکن وہ انجری کی وجہ سے چار میچ ہی کھیل سکے، 2025 کی نیلامی میں انہیں 20 ملین بھارتی روپے میں خریدا گیا تھا اور رواں سال انہیں ریٹین کیا گیا تھا۔
سینٹنر نے چار میچوں میں پانچ وکٹیں حاصل کیں اور 26 رنز بنائے اس کے بعد وہ بائیں کندھے کی انجری کا شکار ہوکر ٹورنامنٹ سے باہر ہوگئے۔
سینٹنر پر آئی پی ایل 2026 چھوڑنے کے لیے انجری کا بہانہ بنانے کا الزام لگایا گیا جس کی آل راؤنڈر نے تردید کی اور اس کے بجائے یہ انکشاف کیا کہ اپنی فٹنس اور جسم کو داؤ پر لگانے کے باوجود انہیں معاوضے کا صرف نصف حصہ ادا کیا گیا۔
مچل سینٹنر نے کہا کہ ٹھیک ہے انہوں نے مجھے میری آدھی رقم دی، جس سے حقیقت میں تھوڑا دکھ پہنچا۔
یہ پڑھیں: ویرات کوہلی نے آر سی بی کو مسلسل دوسری بار آئی پی ایل چیمپئن بنا دیا
انہوں نے کہا کہ میں اپنے دوسرے بچے کی پیدائش کی وجہ سے پہلا میچ نہیں کھیل سکا، فلائٹ سے اترتے ہی سیدھا وہاں پہنچا، دہلی کے خلاف کھیلا، اپنے دائیں کندھے کو زخمی کر بیٹھا اور تقریباً ایک ہفتے کے لیے باہر ہو گیا۔ میں کچھ میچوں کے بعد واپس آیا، اپنے بائیں کندھے کو بھی زخمی کر لیا اور گھر واپس آ گیا۔
آل راؤنڈر نے کہا کہ میں نے تقریباً دو ہفتوں کے دوران اپنے دونوں کندھے زخمی کر لیے اس لیے میرا خیال تھا کہ میں ان کے لیے اپنے جسم کو داؤ پر لگا رہا ہوں لیکن انہیں اس کی پرواہ نہیں تھی۔
واضح رہے کہ آئی پی ایل کے قوانین فرنچائزز کو پابند کرتے ہیں کہ اگر کوئی کھلاڑی ٹورنامنٹ کے دوران زخمی ہو جاتا ہے تو اسے نیلامی کے وقت طے شدہ پوری رقم ادا کی جائے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


