اسلام آباد (23 فروری 2026): پینٹ اور ربڑ انڈسٹری کے لیے مخصوص تیل پٹرولیم مصنوعات میں مکس کر کے فروخت کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔
ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ تیل کمپنیاں غیر قانونی طور پٹرولیم مصنوعات میں کیمیکل ڈال کر فروخت کر رہی ہیں، تمام آئل ریفائنریز اور آئل مارکیٹنگ کمپنیاں اس غیر قانونی اقدام میں ملوث ہیں۔
ذرائع کے مطابق پٹرولیم مصنوعات میں 60 فی صد تک سالونٹ کیمیکل اور 40 فی صد تیل ہوتا ہے، سالونٹ کے ساتھ میتھانول مکس کرنے سے لیبارٹری ٹیسٹ میں مکسنگ ثابت نہیں ہوتی، میتھانول مکس کرنے سے رون 92 کی بجائے رون 96 ثابت ہوتا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک میں 38 تیل کمپنیاں سالونٹ خرید کر پٹرولیم مصنوعات میں مکس کر کے بیچ رہی ہیں، تیل کمپنیاں ریفائنریوں سے پینٹ اور ربڑ انڈسٹری کے لیے سالونٹ خریدتی ہیں، سالونٹ سستا ہونے کے باعث مکس پٹرولیم مصنوعات کی قیمت پر بیچا جا رہا ہے۔
آٹومیٹنگ ٹینک گیجنگ سسٹم : پٹرولیم ڈیلرز کا تخفظات کا اظہار
ذرائع کے مطابق سالونٹ کے لیے ٹیکس کم ہونے پر کمپنیاں کم ٹیکس ادا کر کے خزانے کو نقصان پہنچا رہی ہیں، کیمکل زدہ تیل کا استعمال کینسر کا باعث بھی بن رہا ہے۔
پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے اس معاملے پر وزیر پٹرولیم کو خط بھی لکھ دیا ہے، ایسوس ایشن نے سالونٹ کی پیداوار، فروخت اور خریداروں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، اور کہا ہے کہ آئل ریفائنریز اور تیل کمپنیوں کا سالونٹ کی فروخت کا آڈٹ کیا جانا چاہیے۔
علیم ملک پاور ڈویژن، آبی وسائل، وزارت تجارت اور کاروبار سے متعلق دیگر امور کے لیے اے آر وائی نیوز کے نمائندے ہیں


