The news is by your side.

Advertisement

‘ذہن کو کنٹرول’ کرنے کے خفیہ منصوبے، لرزہ خیز کہانی سامنے آگئی

ایم کے الٹرا سی آئی اے کا ایک انتہائی خفیہ پروجیکٹ مانا جاتا ہے جس میں ایجنسی نے سیکڑوں خفیہ تجربات کیے، یہ کیسے کام کرتا تھا؟ لرزہ خیز کہانی منظر عام پر آگئی ہے۔

چالیس سال قبل امریکی سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی پر ایسی دستاویزات منظر عام پر لانے کے لیے دباؤ ڈالا گیا جن کے منظر عام پر آنے میں پتا چلا کہ انسانی ذہن کو کنٹرول کرنے کے تجربات کی امداد کی گئی جس میں متاثرین کو بتائے بغیر الیکٹرک شاک، منشیات اور دیگر خوفناک طریقے استعمال کیے گئے۔

کوریا جنگ سے نکلنے والے کچھ قیدیوں نے جب امریکا میں کمیونسٹ مہم کے لیے شور ڈالا تو امریکی انٹیلیجنس کمیونٹی پریشان ہو گئی، انھیں خدشہ تھا کہ چین اور سویت یونین نے ذہن کو کنٹرول کرنے کے طریقے ڈھونڈ نکالے ہیں اور ان کے ایجنٹ خفیہ معلومات دے سکتے ہیں، سی آئی اے نے انسانوں پر نفسیاتی تجربوں کے لیے ڈھائی کروڑ ڈالر مختص کیے تھے۔ایسڈ ٹیسٹ سے اچھی اور بُری یادیں وابستہ کی جاتی ہیںنفسیات کے ماہر ہاروی ایم وینٹسین نے کتاب ’فادر، سن اینڈ دی سی آئی اے نے لکھا کہ اس منصوبے کا مقصد یہ تھا کہ انسانوں کو کمزور کر کے ان کی تفتیش کیسے کی جائے؟ منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے سی آئی اے نے جعلی کمپنیوں کی مدد سے امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا میں 80 اداروں اور سائنسدانوں سے رابطے کیے اور ’نفسیاتی اسپتالوں میں مریضوں، وفاقی جیلوں میں قیدیوں اور کچھ عام لوگوں کو منشیات دی گئی اور بلا اجازت تجربے کیے گئے۔

ان میں سے کچھ سفاکانہ طریقے بیان کئے جارہے ہیں

تیزاب ٹیسٹ

ایم کے الٹرا کے ابتدائی پراجیکٹس میں ’آپریشن مڈنائٹ کلائمیکس‘ شامل تھا، اس کے لئے انہوں نے ایسے مقامات قائم کیے جنھیں ’سیف ہاؤس‘ یا محفوظ مقام کا درجہ دیا گیا، یہاں مرد بغیر کسی تنبیہ کے جسم فروش خواتین کو لاتے تھے اور انھیں ایل ایس ڈی دیتے تھے تاکہ سی آئی اے کے سائنسدان ان پر تحقیق کر سکیں۔

لوگوں کو ایسی پارٹیوں میں مدعو کیا جاتا رہا جہاں لائیو موسیقی کے ساتھ ایل ایس ڈی دی جاتی تھی، ان پارٹیوں کو ’ایسڈ ٹیسٹ‘ یا تیزاب ٹیسٹ کہتے تھے۔ ایسی دعوتوں نے کچھ سال بعد امریکہ میں ’ہپی کلچر‘ اور نفسیاتی تحریکوں کو بڑھاوا دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

مگر بعض سب سے نقصان دہ تجربے مانٹریال کے ایلن میموریل انسٹیٹیوٹ میں کیے گئے، یہ کینیڈا کا ایک نفسیاتی علاج کا اسپتال ہے، یہاں مریضوں کی ایک نامعلوم تعداد کے ذہنوں کو ایک طریقے سے تباہ کیا گیا۔

دی ایلن

اس اسپتال کو ’دی ایلن‘ کے نام سے جانا جاتا تھا اور اسے سکاٹش امریکی ڈونلڈ ایون کیمرون چلاتے تھے، انہیں دنیا کے صف اول کے نفسیات کے ڈاکٹروں میں شمار کیا جاتا تھا۔

کیمرون سنہ 1952 سے 1953 اور پھر 1963 میں امریکی سائیکٹرک ایسوسی ایشن (اے پی اے) کے صدر رہے۔ وہ سنہ 1958 سے 1959 میں کینیڈین سائیکٹرک ایسوسی ایشن، 1965 میں سوسائٹی آف بیالوجیکل سائیکٹری، اور سنہ 1961 سے 1966 کے دوران ورلڈ سائیکٹرک ایسوسی ایشن کے صدر رہے۔ڈاکٹر کیمرون کو دنیا کے صف اول کے نفسیاتی ڈاکٹروں میں شمار کیا جاتا تھااسی لیے لو نفسیاتی ماہر ہاوی وینسٹین کے والد چاہتے تھے کہ وہ ان کا علاج کریں جب انھیں اچانک پریشانی کے دورے پڑنے لگ،’خوفناک چیزیں ہوئیں، پھر ایم کے الٹرا کی دستاویزات منظرعام پر آئیں، مجھے آج تک ان کے رویے میں تبدیلی کی وجوہات سمجھ نہیں آئیں۔‘

لو سماجی طور پر متحرک شخص تھے جنہیں گانا پسند تھا۔ وہ اپنا کاروبار چلاتے تھے۔ جب وہ دی ایلن نامی اس ہسپتال سے نکلے تو ان کی زندگی اور خاندان تباہ ہو چکے تھے۔

ڈاکٹر کیمرون

سی آئی اے نے ایم کے الٹرا کے آغاز کے تین سال بعد ڈاکٹر کیمرون سے سوسائٹی آف ہومن ایکالوجی ریسرچ کے ذریعے رابطہ کیا، یہ ان کی ایک جعلی تنظیم تھی جس سے امداد کی جاتی تھی۔37 روز سے کیمیائی نیند میں رکھے گئے ایک مریض کے ریکارڈ کے مطابق اسے 15 بار الیکٹرک شاکس دیے گئے۔ علاج میں روکنے پر اسے دو شاک روزانہ دیے جاتے۔

کیمرون ایک نئی سائنسی حکمت عملی بنا رہے تھے جس کے تحت ذہن کسی کمپیوٹر کی طرح ہوتا ہے اور اسے یادداشت مٹا کر نئی سرے سے پروگرام کیا جا سکتا ہے، اس طرح از سر نو ذہن سازی ممکن ہو سکتی تھی، اس کے لیے مریضوں کو بچوں جیسی نفسیاتی حالت میں لانا ہوتا تھا جس میں ڈاکٹر کسی شخص کی ذہنی کمزوری کا فائدہ اٹھا سکیں۔

ذہن سازی کے ایسے آغاز میں انسانوں کی یادداشت کے اندر نئے خیالات ڈالے جا سکتے تھے اور کسی کو یہ احساس نہ ہوتا کہ یہ خیال ان کے اپنے نہیں ہیں۔

نفسیاتی تجربوں کا طریقہ

چھوٹی موٹی بیماریوں جیسے پوسٹ پارٹم ڈپریشن یا پریشانی کی حالت کے علاج کے لیے ہسپتال آنے والے مریضوں کو یہاں داخل کر لیا جاتا جہاں انھیں کئی دنوں یا مہینوں تک کیمیائی کوما میں رکھا جاتا۔

کیمرون کی تھیوری کے مطابق زیادہ پاور اور فریکوینسی والے الیکٹراک شاک دے کر ان کے ذہن کو ’ختم‘ کر دیا جاتا جس سے وہ ایسی حالت میں آ جاتے جس سے وہ بہتر ذہنی صلاحیت حاصل کر سکیں۔

پروگرام کا خاتمہ اور خاندانوں کا غصہ

ایم کے الٹرا منصوبے کو 1964 میں روک دیا گیا اور مگر اسے حقیقتاً 1973 تک نہیں ختم کیا گیا تھا۔ ایسے شواہد ملے ہیں کہ اس کی سرگرمیوں کی نشانیاں مٹائی گئیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں