اسلام آباد (16 جنوری 2026): عام پاکستانی شہری ہی نہیں اراکین قومی اسمبلی بھی جعلسازوں کے گھیرے میں ہیں اجلاس میں روداد سنا دی۔
سوشل میڈیا کے فروغ پانے کے ساتھ ہی دنیا بھر کی طرح سائبر کرائمز نے بھی فروغ پایا اور سائبر کرمنلز جعلسازی کے ذریعہ کبھی انعامات کے لالچ اور کبھی اداروں کے جعلی نمائندے بن کر عام لوگوں کو ڈرا دھمکا کر لوٹ رہے ہیں۔
تاہم صرف عام پاکستانی عوام ہی نہیں بلکہ خواص اراکین قومی اسمبلی بشمول اسپیکر بھی ان جعلسازوں کے گھیرے میں ہیں اور آج ایک قومی اسمبلی کے اجلاس میں انہوں نے ساری روداد سنائی۔
پی پی کی خاتون رکن قومی اسمبلی شازیہ مری نے ایوان کو بتایا کہ ایکس پر ایک پوسٹ آئی کہ جعلی ٹریفک چالان ہو رہے ہیں اور یہ بالکل درست ہے۔
انہوں نے بتایا کہ میری بہن کو لاہور شہر کا ایک چالان موصول ہوا ہے، جب کہ میری بہن لاہور گئی بھی نہیں اور اس کا جعلی چالان آ گیا۔
ایک اور رکن قومی اسمبلی اعجاز الحق نے بھی اپنے ساتھ پیش آنے والے اسی نوعیت کے ایک واقعہ کا ذکر کیا۔
ابھی دیگر اراکین اسمبلی شازیہ مری اور اعجاز الحق کی روداد سن کر ہی حیران تھے کہ اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے خود کے ایک جعلساز سے متاثر ہونے کا واقعہ سنا کر سب کو ششدر کر دیا۔
اسپیکر ایاز صادق نے انکشاف کیا کہ انہیں بھی ایک فیک کال آئی تھی۔ کسی شخص نے میری آواز ریکارڈ کر کے ایک سے پیسے مانگے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ شکر ہے مذکورہ شخص نے پیسے دینے سے پہلے فون کر کے مجھے سے پوچھ لیا اور میں نے بتایا کہ میں نے نہ کوئی کال کی اور نہ پیسے مانگے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


