The news is by your side.

Advertisement

بھارت: مدرسہ طالب علم پر ہندوانتہا پسندوں کا وحشیانہ تشدد

نئی دہلی: بھارتی سرزمین مسلمانوں پر تنگ کردی گئی، جہاں ہر روز مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے انسانیت سوز مظالم ایک تاریخ رقم کررہے ہیں۔

فاسشٹ مودی کے زیر عتاب رہنے والا احمد آباد میں آئے روز مسلمانوں پر حملوں کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں، ایسا ہی واقعہ گذشتہ اتوار کو پیش آیا جہاں مدرسہ میں پڑھنے والے دو بچوں پرانتہا پسندوں نے انسانیت سوز تشدد کیا۔

رپورٹ کے مطابق رات دس بجے خضر اور عمر نامی دو بچے مدرسہ سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد ایکٹیوا سے اپنے گھر پالڈی جارہے تھے کہ ان کی موٹر سائیکل (ایکٹیوا ) ایک ہندو شخص بھاوش سے ٹکرا گئی۔

مذکورہ شخص نے محض مسلم ہونے پر دونوں بچوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا، اسی دوران مجمع نے بھی دونوں بچوں پر تشدد کیا۔

یہ بھی پڑھیں: افسوسناک سانحہ، بھارتی ہندو انتہا پسندوں کا مسجد پر حملہ، مینار منہدم

واقعے سے متعلق متاثرہ بچے کے بھائی نے بتایا کہ واقعے کے بعد ہمارے پاس فون آیا تو ہم جائے وقوعہ پر پہنچے اور دونوں شدید زخمی بچوں کو اسپتال منتقل کیا، عمر کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کے باعث اس کا ہاتھ فریکچر ہوچکا ہے جبکہ سر اور پاؤں میں شدید زخم آئے۔

متاثرہ شخص نے بتایا کہ اس واقعے میں خضر کو بھی زخم آئے، جسے طبی امداد کے بعد اسپتال سے فارٖغ کردیا گیا، یہ سب سوچی سمجھی سازش کے تحت کیا گیا ہے، ہم نے واقعے کی ایف آئی آر درج کرادی ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ نامزد ملزمان کے خلاف پولیس کیا رویہ اختیار کرتی ہے؟۔

Comments

یہ بھی پڑھیں