راجھستان میں گائے خریدنے والوں پر انتہا پسندوں کا حملہ، بزرگ جاں بحق -
The news is by your side.

Advertisement

راجھستان میں گائے خریدنے والوں پر انتہا پسندوں کا حملہ، بزرگ جاں بحق

جودھ پور: بھارت میں انتہا پسندی اور مسلمان دشمنی عروج پر پہنچ گئی۔ بھارتی ریاست راجھستان میں گائے خرید کے جانے والے مسلمان کو ہجوم نے شدید تشدد کا نشانہ بنا کر اسے بالآخر مار ڈالا۔

نریندر مودی کے انتہا پسند بھارت میں مسلمان ہونا جرم بن گیا۔ انتہا پسند دن دہاڑے مسلمانوں کی جان لینے لگے۔

بھارتی ریاست راجھستان کے شہر الور میں مویشی میلے سے گائے خریدنے والے 55 سال کے پہلو خان کو انتہا پسندوں کے ہجوم نے دن دہاڑے بد ترین تشددکا نشانہ بنایا۔

مزید پڑھیں: گوشت کے خلاف کریک ڈاؤن، جانور بھوکے رہنے پر مجبور

پہلو خان اور ان کے ساتھیوں نے مویشی میلے سے خرید ی گئی گائے کے دستاویزی ثبوت بھی دکھائے لیکن جنونی ہندوؤں نے ایک نہ سنی۔ پہلو خان کو  شدید ضربیں لگائی گئیں، جس کے بعد انہیں تشویش ناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا تاہم 2 دن بعد وہ زخموں کی تاب نہ لا کرجاں بحق ہوگئے۔

ہجوم کے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بننے والے ان کے ساتھیوں کو تشویش ناک حالت میں اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ چند روز قبل وزیر اعظم نریندر مودی کے آبائی علاقے گجرات کی اسمبلی نے گائے ذبح کرنے والے کو عمر قید کی سزا دینے کا قانون منظور کرلیا۔

قید کے ساتھ ساتھ ایک لاکھ روپے کا جرمانہ بھی ادا کرنا پڑے گا۔

مزید پڑھیں: گجرات میں گائے ذبح کرنے پر عمر قید

اس سے قبل ریاست اتر پردیش کے نو منتخب وزیر اعلیٰ ادیتیہ ناتھ یوگی نے اپنے عہدے کا منصب سنبھالتے ہی ریاست بھر میں گوشت کی دکانوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کا حکم دیا تھا جس کے بعد سے یو پی میں گوشت کی دکانیں اور مذبح خانے بند کروائے جا رہے ہیں۔

اس مسلم دشمن اقدام سے مسلمانوں سمیت دلتوں اور اس شعبے سے وابستہ دیگر افراد کا کاروبار بری طرح متاثر ہوا ہے۔

اتر پردیش میں ہی انتہا پسند ہندوؤں کی جانب سے گوشت کی دکانوں کو آگ لگا دینے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں