The news is by your side.

Advertisement

جہلم میں توہین کے الزام میں مجمعے نے فیکٹری کو آگ لگادی

جہلم: غصے سے ملغوب مجمعے نے فیکٹری ملازم کی جانب سے مبینہ طورقران پاک کی توہین کے ردعمل میں فیکٹری کو آگ لگادی۔

پولیس ذرائع کے مطابق سینکڑوں افراد نے مبینہگزشتہ رات ایک چپ بورڈ فیکٹری کے گرد جمع ہوئے اورایک ملازم کی مبینہ غلطی کی سزا کے طور پرپوری فیکٹری کو نظرآتش کردیا۔

سینئر پولیس افسرعدنان ملک نے غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ ہمیں کئی شکایات موصول ہوئیں کہ فیکٹری کے سیکورٹی انچارج احمد طاہرنے مبینہ طور پرقران پاک کے نسخے نذرآتش کئے جس کے جواب میں ہم نے مذکورہ ملازم کو گرفتار کرلیا تاہم آتشزدگی کا واقعہ گرفتاری کے بعد پیش آیا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ احمد طاہرکا تعلق احمدی فرقے سے ہے اور اس کی گرفتاری جلے ہوئے کاغذوں میں سے قرآنی صفحات برآمد کرنے کے بعد عمل میں لائی گئی۔

احمدی برادری کے ترجمان سلیم الدین کا اس معاملے میں کہنا ہے کہ ’’ان کی برادری کے تین افراد کو توہین قران کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے‘‘۔

اس حوالے سے وفاقی وزیرِداخلہ چوہدری نثاراحمد خان نے جہلم میں امن و امان کی صورتحال بحال کرنے کے لئے فوج کی تعیناتی کی تجویزدی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جہلم میں جب تک صورتحال قابومیں نہیں آجاتی اس وقت تک جہلم میں فوج تعینات رکھی جائے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں