اتوار, اگست 16, 2026
اشتہار

پاکستان میں موبائل بینکنگ ایپس استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد تقریباً 13.7 کروڑ تک پہنچ گئی

اشتہار

حیرت انگیز

کراچی : اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد کا کہنا ہے کہ موبائل بینکنگ ایپس استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد تقریباً 13.7 کروڑ تک پہنچ گئی۔

تفصیلات کے مطابقبینک دولتِ پاکستان کے گورنر جمیل احمد نے ایچ بی ایل، یونین پے انٹرنیشنل اور پے پاک کے’’ کوبیج‘‘ (co-badged) ڈیبٹ کارڈ کے آغاز کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا ہے جو ڈجیٹل ادائیگیوں کے ایک جدید، مضبوط اور شمولیتی ایکو سسٹم کی جانب سفر کو آگے بڑھائے گا اور ’’کیش لیس پاکستان‘‘ کے وزیرِ اعظم کے خواب کو پورا کرنے میں مدد دے گا۔

افتتاحی تقریب سے خطاب میں گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ ادائیگی کا ’’کوبیج ‘‘ طریقہ ملکی ادائیگیوں کے پاکستانی انفراسٹرکچر کی قوت کو عالمی ادائیگی نیٹ ورک کی بین الاقوامی قبولیت کے ساتھ یکجا کرے گا ۔

انہوں نے کہا کہ یہ اقدام پے پاک کے حوالے سے اسٹیٹ بینک کے طویل مدتی وژن کا عکاس ہے، یعنی ایک محفوظ، سستی اور مقامی سطح پر چلائی جانے والی ادائیگی کی اسکیم وضع کرنا جو بڑھتی ہوئی ملکی ڈجیٹل معیشت کی اعانت کے ساتھ صارفین کو پاکستان میں اور بیرون ملک بلاتعطل لین دین کی سہولت دے سکے۔

گورنر کا کہنا تھا کہ یہ اقدام اسٹیٹ بینک کے وژن 2028ء اور وزیر اعظم کے ’’کیش لیس پاکستان‘‘ اقدام سے ہم آہنگ ہے، جس کا مقصد پاکستان کے مالی نظام کو زیادہ شمولیتی، زیادہ ڈجیٹل اور زیادہ پائیدار بنانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد محض ادائیگیوں کو ڈجیٹائز کرنا نہیں بلکہ ایک ایسا ایکوسسٹم تخلیق کرنا ہے، جس میں افراد اور کاروباری ادارے بلاتعطل ، بحفاظت اور مؤثرانداز میں لین دین انجام دے سکیں۔

اب تک کی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ پاکستان میں ڈجیٹل ادائیگیوں کا نظام مسلسل تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران ریٹیل ڈجیٹل لین دین کی تعداد تقریباً 6.9 ارب سے بڑھ کر 12 ارب کے قریب پہنچ گئی، جبکہ فعال مرچنٹس کی تعداد تقریباً 5 لاکھ سے بڑھ کر 20 لاکھ سے تجاوز کر گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ موبائل بینکنگ ایپس استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد تقریباً 13.7 کروڑ تک پہنچ چکی ہے، جبکہ ڈجیٹل ذرائع سے موصولہ ملکی ترسیلاتِ زر کا تناسب تقریباً 80 فیصد سے بڑھ کر 92 فیصد ہو گیا ہے۔

گورنر نے کہا کہ یہ اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ ڈجیٹل مالی خدمات پر عوام کا اعتماد بڑھ رہا ہے اور ملک مزید شمولیتی اور کیش لیس معیشت کی جانب تیز پیش قدمی کر رہا ہے۔

ادائیگیوں کے مضبوط انفراسٹرکچر کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ پے پاک اور راست سمیت ملکی ادائیگی کے نظاموں کو پاکستان کی ڈجیٹل معیشت میں مرکزی کردار ادا کرتے رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جدت طراز ٹیکنالوجی مالی خدمات کی تشکیلِ نو کر رہی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ پاکستان کا ادائیگیوں کا نظام محفوظ، مضبوط اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ رہے۔

جمیل احمد کا کہنا تھا کہ ملکی ڈیبٹ کارڈز کے اجرا میں پے پیک کو ترجیحی انتخاب بننا چاہیے، جبکہ کو بیج (co-badged) کارڈز بین الاقوامی ادائیگی کی حسبِ ضرورت سہولت فراہم کر سکتے ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ پے پیک کو جدت طرازی جاری رکھنی چاہیے اور اس کی طویل مدتی کامیابی کا دارومدار ادائیگیوں کے ایکو سسٹم میں مضبوط ملکیت اور اشتراک پر ہوگا۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے بینکوں، ڈجیٹل بینکوں، ادائیگی کی خدمات کے فراہم کنندگان، فِن ٹیک اداروں، مرچنٹس اور دیگر اسٹیک ہولڈرز سے اپیل کی کہ وہ ڈجیٹل ادائیگیوں کی قبولیت کو وسیع کریں، سائبر سیکورٹی کو مضبوط کریں، صارفین میں آگاہی کو فروغ دیں اور، محفوظ، قابلِ بھروسہ اور صارف کو مدِنظر رکھتے ہوئے ادائیگی کی خدمات فراہم کریں۔

جمیل احمد نے تقریب میں ایچ بی ایل، یونین پے انٹرنیشنل، پےپاک اور ون لنک کے اشتراک پر انہیں مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ شراکت داری ظاہر کرتی ہے کہ ملکی اور بین الاقوامی ادائیگی نیٹ ورکس کے درمیان تعاون جدت کو فروغ، مالی شمولیت میں اضافے اور پاکستان کی معیشت میں نقدی سے استعمال کو کم اور اسے ڈجیٹل بنانے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے

اہم ترین

انجم وہاب
انجم وہاب
انجم وہاب اے آر وائی نیوز سے وابستہ ہیں اور تجارت، صنعت و حرفت اور دیگر کاروباری خبریں دیتے ہیں

مزید خبریں