The news is by your side.

Advertisement

کراچی: لاک ڈاؤن سے متاثرہ شہریوں کے لیے موبائل کیفے کا انتظام

کراچی میں لاک ڈاؤن متاثرین نے کورنگی ڈپٹی کمشنر آفس کا گھیراؤ کر لیا، پولیس کا تشدد

کراچی: شہر قائد میں لاک ڈاؤن سے متاثرہ شہریوں اور دیہاڑی دار مزدوروں کے لیے ایک شہری نے موبائل کیفے کا انتظام کر لیا۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق حکومتی دعوؤں سے تنگ آ کر کراچی کے شہری نے پارلیمنٹ ریٹ کے نام سے ایک موبائل دستر خوان لگا لیا، آئی آئی چندریگر روڈ پر موبائل کیفے میں صبح کا ناشتہ اور دوپہر کا کھانا نہایت سستے ریٹس پر فراہم کیا جا رہا ہے۔

موبائل کیفے پر صبح کا ناشتہ 10 روپے اور دوپہر کا کھانا 20 روپے میں دیا جا رہا ہے، کیفے کی جانب سے بے روزگار افراد کے لیے ناشتہ اور کھانا مفت تقسیم کرنے کا انتظام بھی رکھا گیا ہے۔

وزیر اعظم کا دیہاڑی دار افراد کے لیے ریلیف پیکج کا اصولی فیصلہ

موبائل کیفے کھولنے والے شہری قیصر امتیاز کا کہنا تھا کہ اس عملی اقدام کا مقصد حکومت کو بتانا ہے کہ عوام کی خدمت کے لیے حکومتوں کی ضرورت نہیں، پارلیمنٹ میں وزرا جس ریٹ پر کھانا کھاتے ہیں اسی پارلیمنٹ ریٹ پر ناشتہ اور کھانا تقسیم کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ حکومت سندھ کی جانب سے لاک ڈاؤن متاثرین کو خوراک گھروں پر پہنچانے کے اعلانات کر رکھے ہیں، ادھر کراچی میں لاک ڈاؤن متاثرین نے کورنگی ڈپٹی کمشنر آفس کا گھیراؤ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے بچے بھوک سے مر رہے ہیں اور کھانا نہیں ملا۔ کمشنر آفس کے گھیراؤ پر پولیس نے راشن کے لیے آنے والے مستحقین پر تشدد بھی کیا اور کئی کے سر پھاڑ دیے۔

لاک ڈاؤن کے باعث شہر قائد کی قدیم بستیوں کے مکین بھی راشن کے متلاشی ہیں، متاثرین کا کہنا ہے کہ روزانہ اجرت بند ہے گھروں میں راشن ختم ہو چکا ہے، ذرایع آمد و رفت بند ہونے سے اشیائے خورد و نوش کی قلت ہے، ان قدیم بستیوں میں پیر بخش سموں گوٹھ، پیر بخش دھنی آباد، تارو مینگل گوٹھ و دیگر شامل ہیں۔

سندھ کے ایک اور شہر ٹھٹھہ میں بھی لاک ڈاؤن کے باعث غریب طبقے کے لوگ بے روزگار ہو گئے ہیں، راشن نہ ملنے سے غریب خاندان فاقہ کشی پر مجبور ہیں، اے آر وائی نیوز کے مطابق 9 دن گزرنے کے باوجود بھی ضلعی انتظامیہ راشن کی فراہمی نہ کر سکی، حکومتی راشن پر یو سی چیئرمین اور انتظامیہ میں اختلاف بھی سامنے آیا، راشن بیگ کی تعداد کم ہونے پر چیئرمین ناراض ہو گئے اور راشن لینے سے انکار کر دیا۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں