(03 جنوری 2026): ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں نشہ اب منشیات تک محدود نہیں رہا، اب یہ خاموشی سے موبائل فون کی اسکرین کے ذریعے انسان کی زندگی میں داخل ہو چکا ہے، اور فون میں موجود ڈیجیٹل نشہ دماغی توجہ کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق موبائل ایپس ایک نئی قسم کی ڈیجیٹل لت پیدا کر رہی ہیں، ماہرین اسے ’’رویّاتی کوکین‘‘ قرار دے رہے ہیں، یہ لت دماغ کی توجہ، نیند اور فیصلہ سازی کو متاثر کر دیتی ہے۔
بہ ظاہر تو مختلف ایپس تفریح فراہم کر رہی ہیں لیکن یہ دراصل انسان کی توجہ اور ذہنی صحت کو نقصان پہنچا رہی ہیں، اسی خطرناک رجحان کو ماہرین نے ’’رویّاتی کوکین‘‘ کا نام دیا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے ماہر ڈاکٹر محمد محسن رمضان کا کہنا ہے کہ یہ لت عام عادتوں کی شکل میں سامنے آتی ہے، جیسے بار بار نوٹیفکیشن چیک کرنا اور سوشل میڈیا سے مسلسل جڑے رہنا۔
یوٹیوب نے ایک کروڑ ڈالر آمدن والے 16 بڑے اے آئی چینلز ڈیلیٹ کر دیے
انھوں نے بتایا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز خاص الگورتھمز استعمال کرتے ہیں، یہ الگورتھمز دماغ کے ان حصوں کو متحرک کرتے ہیں جو خوشی کا احساس پیدا کرتے ہیں، نتیجتاً دماغ میں ڈوپامین غیر فطری حد تک بڑھ جاتا ہے۔ اس کا اثر آہستہ آہستہ ظاہر ہوتا ہے، توجہ کم ہو جاتی ہے، نیند متاثر ہوتی ہے، بے چینی بڑھتی ہے، اور صحیح فیصلہ کرنے کی صلاحیت کمزور پڑ جاتی ہے۔
ڈاکٹر رمضان کے مطابق اس حالت میں لوگ آسانی سے آن لائن دھوکا دہی، جھوٹی خبروں اور ڈیجیٹل بلیک میلنگ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بچے اور نوجوان اس سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں کیوں کہ ان کے دماغ ابھی مکمل طور پر پختہ نہیں ہوتے۔
ان کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز میں صارف کی توجہ ایک کاروبار بن چکی ہے، جسے مشتہرین کو بیچا جاتا ہے، بغیر ذہنی صحت کی پرواہ کیے۔ انھوں نے اس خطرے سے نمٹنے کے لیے سائبر تربیت، خاندانی نگرانی اور مضبوط قوانین پر زور دیا۔
ماہرین کے مطابق الگورتھمز انسانی کمزوریوں کو نشانہ بناتے ہیں، جس سے نوجوان اور بچے سب سے زیادہ خطرے میں ہیں، اور یہ مسئلہ اب نفسیاتی نہیں بلکہ سیکیورٹی خطرہ بن چکا ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


