The news is by your side.

Advertisement

سانحہ ماڈل ٹاؤن، چار سال بیت گئے، لواحقین انصاف کے منتظر

لاہور: پنجاب میں ہونے والے سانحہ ماڈل ٹاؤن کو چار سال بیت گئے لیکن شہدا کے لواحقین اب بھی انصاف کے منتظر ہیں کہ آخر کب ذمہ داروں کو سزا دی جائے گی۔

تفصیلات کےمطابق مسلم لیگ ن کے موجودہ صدر اور اُس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کے دور اقتدار 2014 میں بیرئیر ہٹانے کے معاملے پر ایسا پولیس آپریشن کیا گیا، جس میں حکومتی اشاروں پر پولیس نے نہتے شہریوں پر براہ راست گولیاں چلادیں، فائرنگ سے خواتین سمیت چودہ افراد جان سے گئے جبکہ نوے افرادزخمی ہوئے تھے۔

سانحہ ماڈل ٹاؤن پنجاب میں لیگی اقتدار پر سیاہ ترین دھبہ، طاقت کا نشہ، مخالفین کو کچلنے کی پالیسی، ظلم کی اندوہناک داستاں ثابت ہوا، خادم اعلیٰ کے اشاروں پر نہتے شہریوں کو پولیس نے گولیوں سے بھون دیا تھا۔

جون 2014 میں لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں جامع منہاج القرآن کے دفاتر اور پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ علامہ طاہر القادری کی رہائش گاہ کے باہر بیرئیر ہٹانے کے لیے خونی آپریشن کیا گیا، خاص مقصد کے تحت بارہ تھانوں سے بلائی گئی پولیس نے بات چیت یا مذاکرات کے بجائے سیاسی کارکنوں پربراہ راست فائرنگ کردی تھی۔

اس حملے میں دو خواتین سمیت چودہ افراد جاں بحق اور نوے زخمی ہوئے، انصاف کے لیے پاکستان عوامی تحریک کے احتجاج پر جوڈیشیل کمیشن بنا اور عدالتی حکم پر نوازشریف، شہبازشریف سمیت اکیس افراد کے خلاف اٹھائیس اگست کو قتل، اقدام قتل اور دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا۔

بعد ازاں جسٹس باقر نجفی کی سربراہی میں بننے والے یک رکنی جوڈیشیل کمیشن کی رپورٹ بھی چھپائی گئی، آخر کار عدالتی حکم پر رپورٹ منظر عام پر آئی تو ذمہ دار شہباز شریف کی حکومت قرار پائی، رپورٹ میں بتایا گیا کہ شہباز شریف نے پولیس کو موقع سے ہٹانے سے متعلق جھوٹ بولا تھا۔

علاوہ ازیں رانا ثناءاللہ کی زیر صدارت اجلاس خون ریزی کا سبب بنا، پاکستان عوامی تحریک تاحال انصاف کی منتظر ہے، علامہ طاہر القادری نے کل جماعتی کانفرنس سے لے کر ملک گیر احتجاج تک کیا، لاہور سے اسلام آباد انقلاب مارچ میں بھی انصاف کی دہائی دی گئی، اور قاتلوں کو کٹہرے میں لانے کے لیے ملکی عدالتوں میں بھی قانونی جنگ لڑ رہے ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں