اسلام آباد میں ماڈل جوڈیشل کمپلیکس کی ضرورت ہے‘ اسلام آباد ہائی کورٹ -
The news is by your side.

Advertisement

اسلام آباد میں ماڈل جوڈیشل کمپلیکس کی ضرورت ہے‘ اسلام آباد ہائی کورٹ

اسلام آباد : اسلام آباد کی آبادی کے تناسب سے عدالتی امور الگ کرنے پردرخواست کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ماتحت عدالتوں کی بہتری ریاست کی ذمے داری ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیف جسٹس اطہرمن اللہ کی سربراہی میں بینچ نے اسلام آباد کی آبادی کے تناسب سےعدالتی امور الگ کرنے پردرخواست کی سماعت کی۔

عدالت میں سماعت کے دوران وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کی ایسٹ اور ویسٹ عدالت کوالگ کیا جائے، خواتین اور بچوں کی عدالت کو الگ کیا جائے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ ماتحت عدالت میں خواتین ججوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے، اسلام آباد میں ماڈل جوڈیشل کمپلیکس کی ضرورت ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ کیا عدالتوں سے زیادہ میٹروکی ضرورت تھی، سائلین کے لیے کچہری میں جگہ نہیں ہے، ماتحت عدالتوں کی بہتری کے لیے کمیٹی کی اشد ضرورت ہے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ ماتحت عدالتوں کی بہتری ریاست کی ذمے داری ہے، کمیٹی تشکیل دینے کا حکم دیتا ہوں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ کمیٹی کے سفارشات کابینہ ڈویژن میں بھجوائی جائیں۔

بعدازاں عدالت نے اسلام آباد کی آبادی کے تناسب سے عدالتی امور الگ کرنے پردرخواست کی سماعت 12 مارچ تک ملتوی کردی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں