site
stats
پاکستان

سانحہ ماڈل ٹاؤن: حکومتی اپیل پر سماعت 3 اکتوبر تک ملتوی

model town

لاہور: ہائی کورٹ نے سانحہ ماڈل ٹاون انکوائری رپورٹ منظر عام پر لانے کے عدالتی حکم کے خلاف حکومتی اپیل کی سماعت 3 اکتوبر تک ملتوی کردی ، متاثرین کے وکیل نے پنجاب حکومت کی اپیل کی پیروی کے لئے نجی وکیل کی خدمات حاصل کرنے اور حکومت پنجاب کے وکیل خواجہ حارث کے پیش ہونے پر اعتراض کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس عابد عزیز شیخ ‘ جسٹس شہباز علی رضوی اور جسٹس قاضی محمد امین نےدرخواستوں پر سماعت کی۔حکومتِ پنجاب کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ سنگل بنچ نے حکومتی موقف پوری طرح نہیں سنا اور یک طرفہ فیصلہ سنادیا۔

یہ بھی کہا کہ انکوائری رپورٹ کے متعلق درخواستیں فل بنچ میں زیر التوا ہونے کے باعث سنگل بنچ کو فیصلے کا کوئی اختیار نہیں تھا ‘ سنگل بنچ نے جلدبازی میں قانونی تقاضوں کے برعکس فیصلہ دیا۔ جوڈیشل انکوائری حکومت حقائق جاننے کے لیے کراتی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کو روکا جا سکے ۔اس قسم کی رپورٹس منظر عام پر لانےسے امن و امان کے مسائل پیدا ہوں گے ۔

دوران سماعت متاثرین کے وکیل نے پنجاب حکومت کی جانب سے خواجہ حارث کے پیش ہونے پر اعتراض کر دیا. انہوں نے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے کے مطابق حکومت کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل ہی پیش ہو سکتے ہیں ۔ پنجاب حکومت نے اپیل کی پیروی کے لیے خواجہ حارث کی خدمات لیں جو قانون کی خلاف ورزی ہے‘ لہذا عدالت خواجہ حارث کو پیروی سے روکے اور سرکاری وکیل کو پیروی کرنے کا حکم دے۔

جواب میں خوا جہ حارث نے کہا کہ ’رولز آف بزنس ‘کے تحت حکومت پنجاب اپنے کیس کی پیروی کے لئے نجی وکیل کی خدمات حاصل کر سکتی ہے ۔سپریم کورٹ کے فیصلے کا اطلاق وفاقی حکومت کے دائرہ اختیار سے متعلق ہے۔ اس فیصلے کا پنجاب حکومت کے رولز آف بزنس پر نہیں ہوتا ۔

کارروائی کے دوران عدالت نے صوبائی سیکرٹری قانون سے خواجہ حارث کو حکومتی کیس کی پیروی کے لئے نامزد کرنے سے متعلق منظور کردہ سمری طلب کر لی‘ عدالت نے مشروط طور پر خواجہ حارث کو دلائل جاری رکھنے کی ہدایت کر دی۔

عدالت نے خواجہ حارث کو دلائل جاری رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے مزید سماعت 3 اکتوبر تک ملتوی کر دی ۔ لاہور ہائی کورٹ کے سنگل بنچ کی جانب سے رپورٹ شائع کرنے کے حکم کے خلاف پنجاب حکومت نے اپیل دائر کر رکھی ہے۔

حکومتی اپیل کی سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خرم نواز گندا پور نے کہا کہ عدالت اس بات کا جائزہ لے گی کہ حکومت پنجاب نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب پر انحصار کرنے کی بجائے نجی وکیل کی خدمات کس قانون کے تحت حاصل کیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top