ہائی کورٹ ماڈل ٹاؤن رپورٹ کا بند کمرے میں جائزہ لے گی -
The news is by your side.

Advertisement

ہائی کورٹ ماڈل ٹاؤن رپورٹ کا بند کمرے میں جائزہ لے گی

لاہور: ہائی کورٹ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی انکوائری رپورٹ طلب کرلی ‘ عدالت نے قراردیا کہ رپورٹ کا بند کمرے میں جائزہ لیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس عابد عزیز شیخ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے حکومت کی جانب سے رپورٹ شائع کرنے کے عدالتی حکم کے خلاف اپیل کی سماعت کی اور رپورٹ کا بند کمرے میں جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ۔

پنجاب حکومت کے وکیل خواجہ حارث نے اپنے دلائل مکمل کر لیے‘ انھوں نے عدالت کو بتایا کہ ماڈل ٹاون رپورٹ کی کوئی جوڈیشل حیثیت نہیں ہے‘ یہ حکومت نے اپنے لیے تیار کروائی تاکہ اصل حقائق معلوم ہو سکیں اور مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے ۔

حکومتی وکیل خواجہ حارث کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت ماڈل ٹاون کا ٹرائل زیر سماعت ہے ‘ اگر رپورٹ شائع ہوئی تو اس سے مقدمے پر اثر پڑے گا۔سنگل بنچ نے حکومتی موقف سنے بغیر رپورٹ شائع کرنے کا حکم دیا‘ لہذا اس کو کالعدم قرار دیا جائے۔

ماڈل ٹاؤن رپورٹ سے فرقہ واریت پھیلنے کا خدشہ ہے*

دوسری جانب درخواست گزار کے وکیل نے دلائل دیے کہ حکومت رپورٹ شائع نہیں کرنا چاہتی مگر اس کے لیے ٹھوس وجوہات بھی بیان نہیں کر رہی کہ رپورٹ کو شائع کرنے سے کیا خدشات پیدا ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جو لوگ سانحہ میں جاں بحق یا زخمی ہوئے ان کے لواحقین کو حق حاصل ہے کہ وہ رپورٹ حاصل کر سکیں ۔عدالت نے سماعت ملتوی کرتے ہوئے حکم دیا کہ سانحہ ماڈل ٹاون کی رپورٹ آئندہ سماعت پر پیش کی جائے جس کا چیمبر میں جائزہ لیا جائے گا۔

عدالت نے پنجاب حکومت کے وکیل کے دلائل مکمل ہونے پر متاثرین کے وکلاء کو آئندہ سماعت پر دلائل دینے کی ہدایت بھی کی۔

یاد رہے کہ پنجاب کے وزیرِ قانون رانا ثناء اللہ نے کہا تھا کہ اس فیصلے پر ہائی کورٹ سے رجوع کریں گے اور ہائی کورٹ جو بھی فیصلہ کرے گی اسے قبول کریں گے‘ کیونکہ یہ معاملہ فل بینچ میں تھا لیکن آج کا فیصلہ سنگل بینچ نے دیا ہے جس پر ہمیں اعتراض ہے اور ویسے بھی باقر نجفی رپورٹ کا سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں