site
stats
اہم ترین

ماڈل ٹاؤن کیس: وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کو طلب نہیں‌ کیا جاسکتا، عدالت

لاہور: سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس میں انسداد دہشت گرد کی عدالت نے قرار دیا ہے کہ عوامی تحریک ثبوت پیش نہ کرسکی اس لیے وزیراعظم، ڈی سی او لاہور اور دیگر حکام کو کیس میں طلب نہیں کیا جاسکتا۔

سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس کی سماعت انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ہوئی جس میں عدالت نے عوامی تحریک کی جانب سے وزیر اعظم، وزیراعلیٰ پنجاب، وفاقی وزراء چوہدری نثار اور خواجہ سعد رفیق، سینیٹر پرویز رشید اور صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ سمیت دیگر اعلی شخصیات کو طلب کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بغیر ثبوت ان شخصیات کو طلب نہیں کیا جا سکتا۔

اے آر وائی نیوز نے 28 صفحات پر مشتمل فیصلےکی کاپی حاصل کر لی جس میں تحریر ہے کہ ماڈل ٹاؤن واقعے میں 100 افراد زخمی ہوئے جب کہ 61 افراد کے میڈیکولیگل پیش کیے گئے اور 31 افراد کو گولیاں لگیں جو خوش قسمتی سے محفوظ رہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان عوامی تحریک سانحہ ماڈل ٹاؤن کی منصوبہ بندی کرنے سے متعلق صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ کی زیر صدارت ہونے والے مبینہ اجلاس کا ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہی۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ یہی نہیں بلکہ وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ کی کالز کا ثبوت بھی فراہم نہیں کیا جاسکا استغاثہ دائر کرنے سے پہلے 21 ماہ تک اجلاسوں کا کچھ نہیں بتایا گیا اس لیے لگتا ہے کہ کہانی کا یہ حصہ من گھڑت ہے اور الجھانے کے لیے کیا گیا۔

آئی جی پنجاب کے کردار کے حوالے سے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئی جی 17 جون کو 9 بج کر 55 منٹ پر لاہور پہنچے، آئی جی کی تفتیش میں ذمہ داری سےآنکھیں نہیں پھیری جاسکتیں۔

عدالت نے آئی جی پنجاب سمیت 124 افسران کواستغاثہ میں طلب کرکے تمام افسران کو 5 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکےجمع کرا کر 17 فروری تک عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top