site
stats
پاکستان

سانحہ ماڈل ٹاؤن رپورٹ کیس، حکومتی وکیل کے تاخیری حربوں پر بنچ برہم

PAT dharna

لاہور: سانحہ ماڈل ٹاون رپورٹ کیس میں حکومتی وکیل خواجہ حارث کی جانب سے اپنی غیر حاضری کی درخواست میں الگ موقف اختیار کرنے جب کہ سرکاری وکیل کی جانب سے الگ وجہ تراشے جانے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے تاخیری حربہ قرار دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق ہائی کورٹ کے جسٹس عابد عزیز شیخ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی رپورٹ سے متعلق حکومتی اپیل کی سماعت کی آج لاہور ہائی کورٹ میں ہوئی۔

آج کی سماعت میں‌ پنجاب حکومت کے وکیل خواجہ حارث کی طرف سے غیر حاضری کی درخواست بھجوائی گئی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ آج وہ سپریم کورٹ میں پیش ہو رہے ہیں چنانچہ آج کی سماعت ملتوی کی جائے۔

تاہم سرکاری وکیل جو شاید حکومتی وکیل خواجہ حارث کی درخواست سے بے خبر تھے نے عدالت کو بتایا کہ خواجہ حارث اس وقت ملک سے باہر ہیں اس لیے آج کی سماعت کے لیے دستیاب نہیں ہوں گے۔

حکومتی وکلاء کے اس متضاد موقف پر بنچ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خواجہ حارث کی درخواست اور سرکاری وکیل کے موقف میں تضاد ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پنجاب حکومت تاخیری حربے استعمال کررہی ہے.

عدالت نے مزید کہا کہ چوں کہ حکومتی اپیل ایڈووکیٹ جنرل آفس کی طرف سے دائر کی گئی تھی اور سرکاری وکیل نے پہلی سماعت پر بحث بھی کی تھی اس لیے خواجہ حارث صاحب کی غیر موجودگی سے کوئی فرق نہیں پڑتا چنانچہ آج بھی سرکاری وکیل بحث کرلیں۔

دوران سماعت متاثرین کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ پنجاب حکومت کے وکلاء اس کیس کے حوالے سے بد نیتی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور روایتی تاخیری ہتھکنڈے اختیار کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری وسائل انصاف کی فراہمی کی بجائے قاتلوں کو بچانے پر صرف ہورہے ہیں اس لیےعدالت سے استدعا کی جاتی ہے کہ کیس کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت ہونی چاہیے اور جلد سے جلد فیصلہ ہونا چاہیے تاکہ متاثرین کو انصاف مل سکے۔

خیال رہے اس کیس میں سرکاری وکلاء نے روزانہ کی بنیاد پر سماعت کے حوالے سے عدالت میں حاضر ہونے کی یقین دہانی کرائی تھی مگر اس پرعمل درآمد نہیں ہو رہا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top