نقاب کرنے پر پابندی، ڈنمارک کی ماڈلز کا انوکھا احتجاج
The news is by your side.

Advertisement

نقاب کرنے پر پابندی، ڈنمارک کی ماڈلز کا انوکھا احتجاج

ڈنمارک کی حکومت نے 2 اگست کو نقاب کرنے پر پابندی عائد کی

کوپن ہیگن: ڈنمارک حکومت کی جانب سے خواتین کے برقع اوڑھنے اور نقاب پہننے پر  پابندی کے خلاف ماڈلز نے ریمپ پر انوکھی کیٹ واک کر کے اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔

تفصیلات کے مطابق یورپی ملک ڈنمارک کی حکومت نے رواں ماہ دو اگست کو عوامی مقامات پر خواتین کے برقع اور نقاب پہننے پر پابندی عائد کی تھی جس کے بعد پورے ملک میں احتجاج خواتین نے احتجاجی ریلی نکالی اور اعلیٰ حکام سے قانون پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا تھا۔

ڈنمارک میں حکومتی پابندی کے خلاف انسانی حقوق کی تنظیمیں اور خواتین سڑکوں پر آئیں اور انہوں نے اس سخت قانون کے خلاف منفرد احتجاج ریکارڈ کرایا۔

یورپی ملک ڈنمارک کے وفاقی دارلحکومت کوپن ہیگن میں 2 روزہ فیشن شو کا انعقاد کیا گیا جس میں ماڈلز نے پابندی کے فیصلے پر اپنا منفرد احتجاج ریکارڈ کرایا۔

مزید پڑھیں: ڈنمارک میں نقاب پہننے پر پابندی کے بعد پہلی خاتون کو سزا

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق فیشن ویک میں شرکت کرنے والی ایرانی نژاد ڈنمارک فیشن ڈیزائنر نے حکومتی اقدام کے خلاف انوکھا احتجاج کروایا اور تمام ماڈلز کو ریمپ پر برقع اوڑھا کر بھیجا۔

Use your imagination

A post shared by DANMARK (@muf10) on

ڈیزائنر ریزا اعتمادی نے فیشن ویک میں اپنے 10 سے زائد خواتین و مردوں کے 10 سے زائد جدید لباس متعارف کروائے جن میں مشرقی ثقافت ابھر کر دکھائی دے رہی تھی۔

نقاب اور برقع زیب تن کی ہوئی ماڈلز ریمپ پر آئیں تو لوگ انہیں دیکھ کر ورطہ حیرت میں مبتلا ہوئے، ساتھ ہی کچھ ماڈلز پولیس کا روپ دھار کر بھی اسٹیج پر نمودار ہوئے جنہوں نے برقع پوش خواتین کو ہراساں کیا تو قانون کا احترام کرنے والی خواتین نے اہلکاروں کو پھول پیش کیے۔

ایرانی نثراد ڈیزائنر کا کہنا تھا کہ ’میں خواتین کے آزادی اظہارِ رائے پر یقین رکھتی ہوں اور اس ضمن میں اُن کی مدد کرنے کے لیے کوشاں ہوں‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’میں ایران میں پیدا ہوئی جہاں ملبوسات پہننے پر پابندی تھی مگر میں نے اُن سب چیزوں کا سامنا کیا اور جدوجہد کو جاری رکھا اسی وجہ سے آج ڈنمارک میں یہ ملبوسات پیش کیے‘۔

یہ بھی پڑھیں: ڈنمارک میں نقاب پر پابندی کے خلاف خواتین کا مظاہرہ

یاد رہے کہ رواں سال مئی کے مہینے میں ڈنمارک کی پارلیمنٹ نے عوامی مقامات پر خواتین کے نقاب پہننے پر پابندی کے قانون کی منظوری دی تھی، پابندی کے حق میں 75 جبکہ مخالفت میں 30 سے زائد ووٹ آئے تھے۔

حکومت نے قرارداد کی منظوری کے بعد 2 اگست سے عوامی مقامات پر نقاب کرنے کی پابندی عائد کی جس کے بعد پورے ملک میں خواتین نے برقع پہن کر احتجاج کیا۔

حکومتی پابندی کے ایک روز بعد پولیس نے دارالحکومت سے ایک نوجوان مسلمان لڑکی کو گرفتار کر کے جرمانہ عائد کیا جس پر مسلم کیمونٹی میں غم و غصہ پایا گیا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل آسٹریا، فرانس اور بیلجیم میں اسی طرح کا قانون منظور ہوچکا ہے اور اب ڈنمارک بھی ان ممالک کی صف میں شامل ہوگیا ہے جہاں خواتین کے برقعہ پہننے پر پابندی عائد ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں