امریکا میں مسلمانوں کے پہناؤوں کی جدید انداز نمائش Muslim Women’s Fashion
The news is by your side.

Advertisement

امریکا میں مسلمانوں کے ملبوسات کی جدید انداز میں نمائش

فیشن ڈیزائنرز نے مسلمانوں کے داخلے پر پابندی لگانے ملک امریکا کے شہر سان فرانسسکو کے دی ینگ میوزیم میں مسلمانوں کے ملبوسات کو جدید انداز میں پیش کیا۔

امریکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ مسلم فیشن نمائش میں روایتی گھیردار لباس، کھسے، چپل، خواتین کے اسکارف کو نمائش کا حصّہ بنایا گیا تھا جبکہ اسپورٹس کلیکشن میں شامل کی گئی تھی۔

مقامی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ میوزیم میں لگائی نمائش میں 60 ممالک کے فیشن ڈیزائنرز نے 80 ممالک کے مختلف ثقافتی ملبوسات کو یکجا کرکے پیش کیا تھا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ سان فرانسسکو کے میوزیم میں رکھے گئے مسلم ملبوسات جدت اور شائستگی کا عنصر شامل تھا۔

مذکورہ تصویر میں نظر آنے والے لباس کو مسلم ملک ملائیشیا کی مشہور فیشن ڈیزائنر برنارڈ چندرن نے تیار کیا ہے، جو نت نئے ڈیزائنز کے حامل ملبوسات تیار کرنے کی وجہ سے ملائیشیا کی اشرافیہ میں بے حد مقبولیت رکھتی ہیں۔

واضح رہے کہ دی ینگ میوزیم میں منعقدہ نت نئے ملبوسات کی نمائش ’اسلام کے خوف‘ سے جڑی ہوئی ہے۔

لبنانی ڈیزائنر سیلین سیمعن ورنون کی ڈیزائن کردہ جیکٹ پر امریکی دستور کی پہلی شق کو عربی میں ترجمہ کرکے تحریر کیا گیا ہے، مذکورہ شق آزادی مذہب کی ضامن ہیں۔

90 کی دہائی تک خانہ جنگی کے شکار ملک لبنان کی فیشن ڈیزائنر سیلین سیمعن سنہ 1980 میں ہجرت کرگئیں تھیں تاہم بعد ازاں وہ امریکا منتقل ہوگئیں۔

لبنانی نژاد فیشن ڈیزائنر کی تیار کردہ ملبوسات کو دور حاضر کے سیاسی رویوں سے مزین کیا ہے، سیلین سیمعن نے ’بین‘ کے لفظ کو اپنے ڈئزاین کردہ اسکارف میں استعمال کیا ہے جس میں ان ممالک کی سیٹلائٹ تصاویر چسپاں کی گئیں ہیں جن پر جارحانہ طبعیت کے مالک امریکی صدر ٹرمپ نے پابندیاں عائد کی تھیں۔

امریکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ دی ینگ میوزیم میں مسلم ملبوسات کی نمائش میں کھیلوں میں استعمال ہونے والے پہناوے بھی شامل کیے گئے تھے، جس میں نائکی کا حجاب اور احدہ زانیٹی کی وہ برکینی بھی رکھی گئی ہے جس پر سنہ 2016 میں فرانس میں کچھ مدت کے لیے پابندی عائد کی گئی تھی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں