بھارتی الیکشن، ووٹرز کی سوچ فلموں کے ذریعے تبدیل کرنے کی تیاری -
The news is by your side.

Advertisement

بھارتی الیکشن، ووٹرز کی سوچ فلموں کے ذریعے تبدیل کرنے کی تیاری

بھارت میں رواں برس لوک سبھا کے انتخابات کا انعقاد کیا جائے گا جس میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے معروف سیاسی شخصیات کی زندگیوں پر فلمیں بنائی جارہی ہیں۔

تفصیلات کے مطابقبھارت میں عام انتخابات کا انعقاد آئین کے مطابق رواں سال اپریل اور مئی میں کیا جائے گا، جس میں عوام ووٹ کے ذریعے اپنے نمائندوں کو منتخب کریں گے اور پھر ایوان میں جس جماعت کے پاس 272 نشستوں کی عددی اکثریت ہوگی وہ اپنا وزیراعظم لاسکتی ہے۔

مجموعی طور پر لوک سبھا میں 543 نشستیں ہیں جن میں مخصوص اور اقلیتیں نشستیں بھی شامل ہیں، اس وقت بھارتیہ جنتا پارٹی کی ایوان میں اکثریت ہے، آئندہ وزیراعظم کے لیے کانگریس جماعت نے راہول گاندھی جبکہ بی جے پی نے مودی کو منتخب کیا۔

ووٹرز کے سیاسی شعور کو تبدیل کرنے کے لیے رواں سال ایک نیا طریقہ سامنے آیا، جس کے تحت تین بڑی فلمیں الیکشن سے قبل ریلیز کی جائیں گی۔

سابق وزیراعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ ، بال ٹھاکرے کے بعد بالی ووڈ کے ایک اور ہدایت کار نے موجودہ وزیراعظم نریندر مودی کی زندگی پر فلم بنانے کا اعلان کیا۔

ایکسیڈنٹل پرائم منسٹر

اس فلم میں سابق بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ، کانگریس جماعت کی اہم شخصیات کو منفی انداز میں پیش کیا گیا، جس کے خلاف ریاست بہار کی عدالت میں  فلم ڈائریکٹر، اداکار انوپم کھیر کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔ فلم رواں سال 11 جنوری کو ملک بھر میں ریلیز کی جائے گی۔

بال ٹھاکرے فلم

یاد رہے کہ ہندو انتہا پسند بال ٹھاکرے کی زندگی پر بنائی جانے والی فلم میں باصلاحیت اداکار نوازالدین صدیقی مرکزی کردار ادا کررہے ہیں، فلم کو رواں 23 جنوری کو ریلیز کیا جائے گا۔

اطلاعات کے مطابق فلم ٹھاکرے کی ریلیز کی وجہ سے بالی ووڈ کے دیگر ہدایت کارروں نے ہندو انتہاء پسندوں کے خوف سے اپنی فلموں کی ریلیز آگے بڑھا دی۔

دی پرائم منسٹر مودی

اسی طرح امنگ کمار کی ہدایت کاری میں موجودہ وزیر اعظم کی زندگی پر  فلم ’پی ایم نریندر مودی‘ بنائی جارہی ہے جس میں وویک اوبرائے وزیراعظم کا مرکزی کردار ادا کرتے نظر آئیں گے۔

فلم کا پہلا پوسٹر ایک روز قبل جاری کیا گیا جس میں اداکار ہوبہ ہو مودی نظر آرہے ہیں۔

قبل ازیں بالی ووڈ تجزیہ نگار ترن آدرش نے اعلان کیا کہ تھا کہ نریندر مودی کی زندگی پر بنائی جانے والی فلم میں وویک اوبرائے مرکزی کردار ادا کریں گے، سندیپ سنگھ کی نگرانی میں بننے والی فلم کی شوٹنگ کا آغاز ہوگیا۔

دوسری جانب ہدایت کارروں کا ماننا ہے کہ اُن کی فلم کو کسی بھی جماعت یا شخصیت کی حمایت حاصل نہیں اور نہ ہی وہ کسی ووٹر کی رائے کو تبدیل کرسکتے ہیں کیونکہ عوام ملکی بہتری کے لیے لوگوں کا انتخاب ووٹ کے ذریعے کرتے ہیں۔

اتفاق کی بات ہے کہ اگر تینوں فلموں کا اب تک سامنے آنے والے اسکرپٹ کی بات کی جائے تو فلموں نے بی جے پی کو براہ راست فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں