زبان سماج اور اس کے رہنے والے تشکیل دیتے ہیں اور پھر وہ بنتی، سنورتی اور بگڑتی بھی ہے۔ اس میں نئے الفاظ شامل ہوتے رہتے ہیں۔ دنیا کی ہر زبان تغیر پذیر ہوتی ہے اور اردو بھی اسی عمل سے گزری ہے۔ اہلِ زبان اور باذوق افراد کو آج شکوہ ہے کہ اردو غلط لکھی اور بولی جارہی ہے۔ خاص طور پر نئی نسل زبان کے جوہر اور اس کے اصل کو شناخت کرنے سے محروم ہورہی ہے۔
قیامِ پاکستان کے بعد اردو زبان کی ترقی، اس کے اور معیاری املا اور تلفظ کو رواج دینے کے لیے لغت نویسوں، انشا پردازوں اور لسانیات کے ماہرین نے دن رات کام کیا اور سیکڑوں کتابیں لکھی گئیں۔ اس کے باوجود زبان و بیان کے مسائل سامنے آتے رہے اور اہلِ علم کے درمیان ان پر مباحث بھی ہوئے اور کہیں وہ آپس میں الجھ بھی گئے۔ یہ تحریر اسی سے متعلق ہے اور اپنے وقت کے صاحب طرز ادیب، مشہور رسالہ ساقی کے مدیر، بہترین مترجم، ماہرِ موسیقی شاہد احمد دہلوی کے ایک مکتوب سے منتخب کردہ پاروں پر مشتمل ہے۔ شاہد احمد دہلوی نے مشہور ادبی جریدے "نقوش” کے مدیر محمد طفیل صاحب کے نام ایک خط ارسال کیا تھا جس میں انھوں نے زبان کے ایک طور یا مسئلے پر ان سے اختلاف کیا تھا۔ اس خط کی طرف بڑھنے سے پہلے ہم ممتاز نقّاد، شاعر اور انشائیہ نگار ڈاکٹر وزیر آغا کے ایک مضمون سے چند پارے پڑھ لیتے ہیں جو اردو اور پنجاب کے تعلق سے اہم ہے۔ وزیر آغا لکھتے ہیں:
"اردو کسی ایک علاقے کی زبان نہیں۔ ہر چند بعض ایسے خطّے بھی موجود ہیں جہاں اردو بول چال کی زبان کا درجہ رکھتی ہے مگر انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ اردو کے اس روپ کو ’’علاقائی اردو‘‘ ہی کا نام دیا جائے۔ وجہ یہ کہ اردو کا یہ علاقائی لب و لہجہ یا رنگ، اردو کے اس عالم گیر رنگ سے قدرے مختلف ہے جو مثلاً پشاور سے لے کر مدراس تک ہر جگہ نظر آتا ہے۔ اس عالم گیر رنگ پر علاقائی اردو کی چھاپ لگانا اور پھر اصرار کرنا کہ اس کا لب و لہجہ اور محاورہ علاقائی اردو کے عین مطابق ہو، ایک بالکل مصنوعی سی بات ہوگی اور اس سے اردو کی وہ حیثیت مجروح ہوگی جواسے ایک ’’بڑی زبان‘‘ کے مقام بلند پر فائز کرتی ہے۔ ”
وزیر آغا نے مزید لکھا:
"وہ زبان جو ہزاروں برس کے کٹاؤ کے عمل سے گہری اور کشادہ ہو کر ایک بڑی زبان کے درجہ پر جا پہنچتی ہے، دراصل ایک ایسی نشیبی گزر گاہ کی طرح ہوتی ہے جس میں جملہ علاقائی زبانوں کے الفاظ، لہجے اور ثقافتی اثمار از خود شامل ہوتے رہتے ہیں۔ اسی لیے میں نے اردو کو دریائے سندھ سے تشبیہ دی ہے کہ یہ دریا ایک تجرید ہی نہیں، ایک نشیبی گزر گاہ بھی ہے۔ اور جب میں کہتا ہوں کہ اردو بھی ایک نشیبی گزر گاہ ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جملہ علاقائی زبانیں (جن میں پنجابی بھی شامل ہے) مجبور ہیں کہ اس قدرتی گزر گاہ کو استعمال کریں۔”
"رہا یہ سوال کہ اگر پنجابی زبان اس گزر گاہ سے کٹ کر خود کفیل اور خود مختار ہونے کی کوشش کرے تو پھر صورت کیا ہو گی، بنیادی طور پر محض ایک مفروضہ ہے۔ وجہ یہ کہ جس طرح پنجاب کے دریا مجبور ہیں کہ اس قدرتی نشیب میں جا گریں جس کا نام دریائے سندھ ہے، اسی طرح اہل پنجاب بھی مجبور ہیں کہ اپنے فکر و احساس کی لطیف ترین پرتوں اور اپنی تہذیب و ثقافت کی جملہ کروٹوں کو اردو میں منتقل کریں کہ اردو زبان ہی برصغیر پاک و ہند کا وہ سب سے بڑا نشیب ہے جس میں علاقائی زبانیں ہزاروں برس سے گزر رہی ہیں اور ہزاروں برس تک گرتی چلی جائیں گی۔ پچھلے ایک سوبرس کے عرصہ میں اہل پنجاب نے جس نفیس اور خوبصورت انداز میں پنجاب کی روح، اس کے جوہر کو اردو میں سمویا ہے، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انہیں اردو اور پنجابی کے اس رشتے کا بھرپور احساس ہے جو ایک دریا اور اس کے معاونین میں استوار ہوتا ہے۔”
اب شاہد احمد دہلوی کے خط سے یہ پارے ملاحظہ ہوں۔
برادر مکرم طفیل صاحب
سلام مسنون
یہ اختلافات بھی زبان کی ترقی کا ذریعہ بن گئے کہ اردو کے دو بڑے دبستان قائم ہو گئے۔ دبستانِ دہلی اور دبستانِ لکھنؤ۔ دوسرے شہر والوں نے جسے پسند کیا اس کی تقلید و پیروی کرنے لگے۔ اردو کے لئے دونوں آنکھیں برابر تھیں۔ ان میں سلوک بھی رہا اور چشمکیں بھی ہوتی رہیں۔ تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ دنیا کی ریت ہی یہ ہے۔ ہم اختلاف اس لئے کرتے ہیں کہ ہم میں اتفاق ہو۔
آپ نے بڑے مزے کی بات کہی ہے کہ ’’جو چیز لکھنؤ سے مؤنث چلتی تھی، وہ دلّی پہنچ کر مذکر بن جاتی تھی۔‘‘ یہ فقرہ نا تمام ہے۔ اسے یوں ہونا چاہیے، ’’جو چیز لکھنؤ سے مؤنث چلتی تھی وہ دلّی پہنچ کر مذکر بن جاتی تھی اور لاہور پہنچ کے مخنث۔‘‘ یعنی مذکر بھی اور مؤنث بھی۔ یہ خرابی ہے دو کشتیوں میں ایک ساتھ پاؤں رکھنے کی۔
اب یہ کہ ’’لکھنؤ نہ وہ لکھنؤ ہے۔ نہ دلّی وہ دلّی ہے۔ اردو کے طالبِ علم کدھر جائیں؟ کسے اپنا امام تسلیم کریں؟ کس سے سند پائیں؟‘‘ اس مسئلہ کو واقعی حل کرنے کی ضرورت ہے۔ آپ یہ نہ بھولیے کہ ۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی کے بعد دلّی اور لکھنؤ سے زیادہ لاہور اردو علم و ادب اور زبان کا مرکز بن گیا تھا۔
۱۸۵۶ء میں شاہانِ اودھ کی بساط الٹی اور اس کے ایک سال بعد لال حویلی اجڑی۔ اہلِ کمال آشفتہ حال ہوئے اور جس کے جہاں سینگ سمائے نکل گیا۔ مولانا محمد حسین آزاد اور مولانا حالیؔ نے لاہور کو اپنے لئے پسند کیا۔ کسی نے رام پور اور کسی نے حیدرآباد دکن کی راہ لی۔ آگے چل کر دکن بھی اردو کا ایک مرکز بن گیا۔ بہار والوں کو بھی بہار کے مرکز ہونے پر اصرار رہا۔ مگر یہ سارے مرکز اب ختم ہو چکے ہیں (سوائے لاہور کے)۔ لہٰذا آپ یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ، ’’اردو کے طالب علم اب کدھر جائیں؟ کسے اپنا امام تسلیم کریں، سند کس سے پائیں؟‘‘
سند اس سے لی جاتی ہے جو سند دینے کے اہل ہوتے ہیں۔ شہروں سے سند نہیں لی جاتی۔ مستند اہلِ زبان جہاں بھی ہوں ان سے سند لیجیے۔ مستند مصنفوں کی مستند تصنیفوں سے سند لیجیے۔ اگر سائلؔ و بیخودؔ سے سند لی جاتی تھی تو جوشؔ ملسیانی سے بھی سند لی جاتی تھی اور لی جاتی ہے۔ اگر امیرؔ و داغؔ، آزادؔ و سرشارؔ مر چکے ہیں تو ان کے دیوان اور ان کی کتابیں تو نہیں مریں؟ وہ اپنی گزار گئے مگر ہمارے لئے ہدایت کے چراغ تو چھوڑ گئے۔
اس خط میں دہلوی صاحب مزید اپنے خیالات کا اظہار یوں کرتے ہیں:
’’آئندہ چل کر اردو کا ڈھانچہ کیا ہوگا؟‘‘ اس کا جواب تو مستقبل ہی دے گا۔ اردو کی تاریخ میں اس کی تدریجی ترقی دیکھیے اور دیکھیے کہ حضرت امیر خسرو کے وقت میں اردو کیا تھی؟ اور رفتہ رفتہ وہ اردو کیسے بنی، جس کے وارث ہم ہیں۔ اس کے بعد آپ اندازہ لگا سکیں گے کہ مستقبل میں اردو کیسی ہوگی۔ اردو تو ہمیشہ اپنے ماحول سے متاثر ہو کر بدلتی چلی آ رہی ہے۔ مقامی زبانوں کے الفاظ اس میں ہمیشہ نفوذ کرتے رہے ہیں۔
اعلیٰ درجے کی اردو کو چھوڑ کر ہم ادنیٰ درجے کی اردو کو رواج نہیں دے سکتے۔ مگر اس کے ساتھ ہی آپ کا یہ کہنا کہ، ’’آج اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ ’’میں نے جانا ہے، غلط ہے تو وہ کوئی دانش مندی کا ثبوت نہیں دے گا۔‘‘ دل کو نہیں لگا!
ایک طرف تو آپ اردوئے معلّیٰ کو رواج دینا ایک غیر دانش مندانہ فعل قرار دیتے ہیں اور دوسری طرف آپ غلط اردو کو رواج دینے پر مصر ہیں، کیوں کہ آپ سمجھتے ہیں کہ ’’آج اردو کو اہلِ پنجاب کے مزاج کا ساتھ دینا ہوگا۔‘‘ یہ ’’نے‘‘ کا اشقلہ کوئی تیس سال پہلے محمد دین تاثیر مرحوم نے چھوڑا تھا۔ مرحوم کے دماغ میں نت نئی شرارتیں جنم لیتی تھیں۔ چنانچہ انہوں نے اپنی ایک غزل میں یہ مصرع رکھ دیا تھا،
تُو نے الفت مجھ سے کرنی ہے تو کر میرے لئے
اس وقت اس پر خاصی لے دے ہوئی تھی اور تاثیر کا مقصد بھی یہی تھا کہ کچھ ہنگامہ ہو۔ انہوں نے لکھا تھا کہ مجھے اس میں زیادہ ترنم معلوم ہوتا ہے۔ مگر یہ ترنم صرف تاثیر ہی کو سنائی دیا اور بس ایک ہی دفعہ سنائی دیا۔ اس کے بعد انہوں نے بھی اپنی نظم یا نثر میں اس ترنم کا استعمال نہیں کیا۔ اس وقت لاہور ہی میں ڈاکٹر اقبال، شیخ عبد القادر، ظفر علی خاں، سالکؔ، مہرؔ، امتیاز علی تاجؔ، پطرسؔ، حامد علی خاں، صلاح الدین احمد، میرا جیؔ، حفیظؔ، حسرت جیسے جلیل القدر بزرگانِ ادب موجود تھے۔ کسی نے تاثیر کی تائید نہیں کی۔ کسی نے اس مترنم ’’نے‘‘ کو اختیار کر کے اپنی تخلیقات کو وقیع تر نہیں بنایا اور اس تیس سال کے عرصے میں پنجاب کے ہزاروں اچھے شاعروں اور ادیبوں میں سے کسی نے اس ترنم زدہ بدعت کو اختیار نہیں کیا۔ ڈاکٹر تاثیر نہایت ذہین اور قابل آدمی تھے۔ مگر انہوں نے بھی پطرسؔ کی طرح ادب کا کوئی علمی کام نہیں کیا۔
ایک دفعہ تاثیرؔ نے ایک مشہور ماہنامہ میں کسی شاعر کا تذکرہ لکھا اور اس کا نمونۂ کلام بھی پیش کیا۔ ہمارے محققین میں بڑی واہ واہ ہوئی۔ بعد میں تاثیر نے بتایا کہ سرے سے اس شاعر کا وجود ہی نہیں تھا۔ سب من گھڑت تھی۔ نمونۂ کلام بھی خود ہی گھڑ دیا تھا۔ مرحوم کو ایسی انوکھی شرارتیں سوجھا کرتی تھیں۔ اب تیس سال بعد آپ کو اس پر اصرار ہوا ہے کہ ’’میں نے جانا ہے‘‘ کو صحیح مانو ورنہ پنجاب کا مزاج برہم ہو جائے گا۔ جی، تو میں اسے غلط ہی کہوں گا۔
بولنے کی زبان اور ہوتی ہے اور لکھنے کی اور۔ بولنے میں مقامی الفاظ اور محاورے اور لہجہ سب چلتا ہے۔ مگر لکھنے میں اہلِ زبان ہی کی تقلید کی جاتی ہے۔ دکن کے کسی ادیب یا شاعر کو ہو (ہاں) نکو (نہیں) پن (لیکن) پانی نہانا۔ میرے کو (مجھے) اور سیکڑوں مقامی الفاظ اور محاوروں کو اپنی تخلیقات میں داخل کرتے آپ نے کبھی دیکھا؟ اگر من مانی کرنے کی ادب و شعر میں کھلی چھٹی مل جاتی تو اردو مینارِ بابل بن جاتی۔
آپ شوق سے ’’میں نے جانا ہے‘‘ اور ’’تُو نے آنا ہے‘‘ اپنے مضامین میں لکھنا شروع کیجیے۔ آج کی اور مستقبل کی اردو نے اگر قبول کر لیا تو چشمِ ما روشن، دل ماشاد۔ زندہ زبانوں میں الفاظ آتے رہتے ہیں اور جاتے رہتے ہیں۔ اگر کسی لفظ کی ضرورت زبان کو ہوتی ہے تو وہ اسے قبول کر لیتی ہے، ورنہ کھوٹے سکے کی طرح نکال کر باہر کرتی ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


