The news is by your side.

Advertisement

محرم الحرام کی قدیمی روایات

کراچی: محرم الحرام کی آمد کے ساتھ ہی ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں شہداء کربلا کی یاد میں پانی کی سبیلیں نصب کردی گئی جو عاشورہ کے روز مغرب کے بعد ہٹا دی جائیں گی۔

تفصیلات کے مطابق ہر سال کی طرح امسال بھی ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں پانی کی سبیلیں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی جانب سے نصب کی گئی ہیں جس کا واضح مقصد اتحاد بین المسلمین ہے۔

ملک کے دیگرعلاقوں کی طرح پاکستان کے معاشی شہہ رگ کہلائے جانے والے شہر کراچی کے مختلف علاقوں بھی سبیلیں نصب کی گئیں ہیں تاہم ہر سال ان کی تعداد میں بتدریج کمی دیکھنے میں آئی ہے، گزشتہ سال کی نسبت اس سال لیاقت آباد میں سبیلوں کی تعداد کافی حد تک کم ہو گئی ہے۔

اس ضمن میں تین ہٹی سے ڈاکخانے جاتے ہوئے مین شاہراہ پر بنائی جانے والی سبیل نہ دیکھ کر متعلقہ گھرانے سے رابطہ کیا، اس علاقے میں میری رہائش کی وجہ سے متعلقہ گھرانے سے بہت اچھی واقفیت ہے۔

خالدہ آپا ہر سال محرم الحرام کے آغاز پر ہی اپنے گھر کی بلڈنگ پر لاؤڈ اسپیکر نصب کر کے درس و دروس چلانے کا سلسلہ شروع کردیتی تھیں اور اگلے ہی روز مرکزی شاہراہ پر سبیل تیار ہوجاتی تھی جو عاشورہ کی نماز مغرب کے بعد شربت کی تقسیم کے ساتھ ہی ہٹا لی جاتی تھی۔

سبیل نہ لگنے کے حوالے سے جب خالدہ آپا سے رابطہ کیا اور وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا کہ ’’اب میں بوڑھی ہوچکی ہوں اور میرا بیٹا بھی روزگار کے سلسلے میں بہت مصرف رہتا ہے تاہم پوتوں اور نواسوں میں وہ جذبہ موجود نہیں جس کی وجہ سے یہ روایت گزشتہ 2 سال سے معدوم ہوتی جارہی ہے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ ’’ہم اپنے بچوں میں سبیلوں کی اہمیت اجاگر کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں جس کی کئی وجوہات جن میں سے ایک بڑی وجہ مصروفیات بھی ہیں تاہم نئی پوت کی ان معاملات میں عدم دلچسپی پرورش میں ہونے والی کمزوریوں کی عکاسی ہے ورنہ گزشتہ 3 سے 4 سال قبل تک ہر سال محلے کے چھوٹے بچے بھی ہمارے گھر سبیل کا چندہ جمع کرنے آتے تھے، جو دیکھ کر اچھا محسوس ہوتا تھا‘‘۔

sabeel-5

دوسری جانب لیاقت آباد کے علاقے سی ون ایریا میں ہی بچوں کی جانب سے سبیل لگائی گئی ہے جسے برقی قمقموں اور دیگر اشیا؍سے سجایا گیا تاہم چھوٹی سطح پر لگائی گئی سبیل میں عوام کو  پانی دینے کے لیے 4 گلاس موجود ہیں جبکہ گلاسوں کے ساتھ ہی ایک گلک (چندہ بکس) رکھا ہے۔ سبیل میں بیٹھے بچے ہر پانی پینے والے سے چندے کی استدعا کرتے نظر آتے ہیں کہ ’’شربت کی تقسیم کے لیے چندہ دے دیں‘‘۔

sabeel-2

سبیل لگانے والے بچوں کے اہل خانہ سے رابطہ کرنے پر انہوں نے کہا کہ ’’یہ ہمارے لیے مسرت کی بات ہے کہ آج بھی بچوں میں یہ جذبہ موجود ہے‘‘ تاہم چندے کے حوالے سے اُن کا کہنا تھا کہ ’’یہ پرانی روایت ہے جسے جاری رہنا چاہیے‘‘۔

sabeel-3

ایک اور سبیل کے پاس بیٹھے بزرگ شفیع صاحب سے جب بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ ’’سبیلوں کی تعداد میں بتدریج کمی آتی جارہی ہے جو تشیویشناک بات تو نہیں تاہم اس روایت کو برقرار رہنا چاہیے کیونکہ ان کے نصب ہونے کا سلسلہ بہت پرانا ہے۔ ہمارے والدین بتاتے ہیں کہ وہ اپنے بچپن میں تقسیم برصغیر سے قبل بھی ہر سال محرم میں سبیلیں لگانے کا باقاعدہ اہتمام کرتے تھے  یہی سلسلہ ہمارے دور میں بھی رہا اور امید ہے 200 سال سے زائد چلنے والی یہ پرانی روایت آئندہ بھی چلتی رہے گی‘‘۔

sabeel-4

یاد رہے محرم الحرام کی آمد کے ساتھ ہی مذہب رواداری اور اتحاد بین المسلمین کو برقرار رکھنے کے لیے سبیلیں لگائی جاتی ہیں، فقہ جعفریہ سے تعلق رکھنے والے افراد کی جانب سے لگائی گئی سبیلوں پر کالے کپڑے آویزاں ہوتے ہیں جبکہ فقہ حنفیہ سے تعلق رکھنے والے افراد کی سبیلوں پر لال یا سبز  رنگ کے کپڑوں سے سجاوٹ کی جاتی ہے۔

کالے کپڑے لگانے والے افراد کا ماننا ہے کہ وہ سانحہ کربلاء کے باعث کالے کپڑے لگا کر اپنے غم کو بیان کرنے کی کوشش کرتے ہے اس کے برعکس سبز اور لال کپڑے لگانے والوں کو نظریہ کچھ مختلف ہے، ان لوگوں کا ماننا ہے کہ ’’لال رنگ واقعے کربلا میں بہنے والے لہو اور سبز رنگ اس واقعے کے بعد اسلام کی بقاء اور اُس کی خوشحالی کے لیے لگایا جاتا ہے۔

sabeel-6

علاوہ ازیں 1982 سے قبل لیاقت آباد میں شیعہ برادری کی جانب سے ہر سال محرم الحرام کی آمد پر سبیلوں، مجالس و دیگر رسومات کا باقاعدہ اہتمام کیا جاتا تھا تاہم  1983 میں ہونے والے فرقہ وانہ فسادات کے باعث شیعہ گھرانوں کی کثیر تعداد کراچی کے مختلف علاقوں انچولی، نمائش، گلبہار وغیرہ منتقل ہوگئی تھی جس کےبعد سے شیعہ برادری کی جانب سے ان علاقوں سبیلیں لگانے کا سلسلہ شروع کیا گیا جو آج تک جاری ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں