The news is by your side.

Advertisement

محسن احسان جنھیں “دلِ ناداں نے ڈبویا”

محسن احسان اردو کے ممتاز شاعر، ادیب اور ماہرِ تعلیم تھے، جنھوں‌ نے خاص طور پر صوبہ سرحد میں اردو ادب کی آبیاری کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ ان کا تعلق پشاور سے تھا۔ 23 ستمبر 2010 کو لندن میں ان کی زندگی کا سفر تمام ہوا تھا۔ آج ان کی برسی ہے۔

77 برس کے محسن احسان کو کینسر تشخیص ہوا تھا۔ محسن احسان نے انگریزی ادب میں‌ تعلیم مکمل کرنے کے بعد پشاور کے اسلامیہ کالج سے استاد اور پھر بحیثیت سربراہ شعبہ انگریزی وابستہ رہے۔

ان کا اصل نام احسان الٰہی تھا۔ 15 اکتوبر 1932 کو پیدا ہونے والے محسن احسان نے 35 سال تک تدریس کے شعبے میں‌ خدمات انجام دیں اور ساتھ ساتھ علمی و ادبی مشاغل اور سرگرمیوں‌ کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔

محسن احسان نے شاعری کی مختلف اصناف میں طبع آزمائی کی۔ ان نظموں اور غزلوں کے مجموعے ناتمام، ناگزیر، ناشنیدہ، نارسیدہ اور سخن سخن مہتاب کے نام سے شایع ہوئے جب کہ نعتیہ شاعری کا مجموعہ اجمل و اکمل کے نام سے اشاعت پزیر ہوا تھا۔ محسن احسان نے ملّی شاعری بھی کی اور ان کا یہ کلام مٹی کی مہکار کے نام سے منظر عام پر آیا۔ ادبِ‌ اطفال کی بات کی جائے تو محسن احسان نے پھول پھول چہرے کے نام سے بچوں کے لیے شاعری کو کتابی شکل میں‌ پیش کیا۔

محسن احسان کا ایک کارنامہ خوش حال خان خٹک اور رحمن بابا کی شاعری کو اردو کے قالب میں‌ ڈھالنا ہے۔ حکومتِ پاکستان نے ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انھیں صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی عطا کیا تھا۔ محسن کے کلام سے ایک غزل آپ کے ذوق کی نذر ہے۔

غزل
چار جانب سے صدا آئی مری
شعبدہ بن گئی تنہائی مری
موت کو جب سے مقابل دیکھا
زندگی ہو گئی شیدائی مری
اب بھی یارانِ گرفتہ دل کو
یاد ہے انجمن آرائی مری
لب کشائی سے ملی رفعتِ دار
کس بلندی پہ ہے گویائی مری
رات پھیلی تو سَرِ خلوتِ غم
بے کراں بن گئی تنہائی مری
صبح چمکی تو غبارِ شب سے
بے محابانہ صدا آئی مری
عمر بھر میرا مخاطب وہ تھا
بات جس کو نہ سمجھ آئی مری
دلِ ناداں نے ڈبویا محسنؔ
کام کچھ آئی نہ دانائی مری

Comments

یہ بھی پڑھیں