اسلام آباد (26 نومبر 2025): اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی کا کہنا ہے کہ اب تو آئینی عدالت بنا لی پھر بھی کام نہیں ہو رہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں پٹوار سرکلز میں پرائیویٹ اشخاص کے سرکاری کام کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے آسامیوں کا درست اشتہار جاری نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کیا۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے دوران سماعت اسسٹنٹ اٹارنی جنرل اور اسٹیٹ کونسل سے مکالمہ کرتے ہوئے ریماکس دیے کہ کیا ہر کام توہین عدالت نوٹس کے بعد ہی کرنا ہے؟ جس ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) کو عدالت نے سزا دی اسے صدر میڈل پہناتا ہے، توہین عدالت کا نوٹس کیا تو اسی وقت ہتھکڑی لگا کر جیل بھیج دوں گا جسٹس بابر ستار کی طرح وقت نہیں دوں گا۔
یہ بھی پڑھیں: جسٹس محسن اختر کیانی کے 27ویں آئینی ترمیم پر دلچسپ ریمارکس
انہوں نے کہا کہ اب تو آئینی عدالت بنا لی پھر بھی کام نہیں ہو رہے یہ سب کچھ آپ لوگوں کیلیے ہو رہا ہے پھر بھی عملدرآمد نہیں، ہر چیز پر ججمنٹ موجود ہے بدنیتی نہ کریں، غلطی کی سزا نہیں لیکن بدنیتی قابلِ گرفت ہے، یہ لوکل پوسٹس ہیں دوسرے صوبوں سے کیسے بھرتیاں لائیں گے؟ پورے پاکستان میں کوٹہ ایک ہی ہے عدالت کے واضح فیصلے موجود ہیں۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے مزید کہا کہ بے ایمان لوگوں سے سسٹم نہیں چل سکتا، لوکل باڈیز انتخابات نہ کروانا بھی بے ایمانی ہے، ہر بے ایمانی اور غلط ٹول استعمال کیلیے رکھا ہوا ہے، شکر کریں گولی نہیں ماری صرف دھمکی دی ہے۔
انہوں نے ریماکس دیے کہ شاملات کی زمین کی تقسیم کے بغیر ہاؤسنگ سوسائٹی کا کام نہیں ہوگا، کام رکا تو جن کے پلاٹ ہیں وہ روئیں گے اور آپ مجھے بد دعائیں دیں گے۔
عدالت نے اسلام آباد انتظامیہ کو پٹواریوں کی آسامیوں کا درست اشتہار جاری کرنے کا نیا حکم جاری کیا۔
فاضل جج نے کہا کہ پنجاب یا سندھ میں اسلام آباد والوں کو لگائیں تو پتا چلے، راولپنڈی میں چکوال کا پٹواری نہیں لگتا اور جہلم میں راولپنڈی کا نہیں لگتا، اسلام آباد میں آپ کو کیا ہو جاتا ہے؟
اسلام آباد ہائیکورٹ نے آئندہ سماعت پر درست اشتہار دوبارہ عدالت میں جمع کروانے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت آئندہ ماہ تک ملتوی کر دی۔


