اسلام آباد : وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کچہری خود کش حملہ جس نے بھی کرایا اسے بھگتنا پڑے گا اور تمام شواہد جلد سامنے لائے جائیں گے۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی خود کش حملے کے مقام پر پہنچ گئے اور آئی جی اسلام آباد سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بریفنگ لی۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ آج دوپہر 12 بج کر 39 منٹ پر خود کش حملہ ہوا، جس میں 12 افراد شہید اور 27 زخمی ہوئے، وزیر اعظم شہباز شریف نے زخمیوں کے فوری علاج کی ہدایت کی ہے۔
محسن نقوی نے بتایا کہ دہشت گرد کچہری کے اندر جانے کا منصوبہ بنا رہا تھا، لیکن موقع نہ ملنے پر پولیس کی گاڑی پر حملہ کیا، سب سے پہلی ترجیح خودکش حملہ آور کی شناخت کرنا ہے اور حملے میں ملوث تمام کردار سامنے لائے جائیں گے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ کل وانا میں بھی کار سوار خود کش حملہ آور نے انٹری پوائنٹ پر خود کو اڑا دیا تھا اور وہاں بھی کلیئرنس کا کام جاری ہے۔
وانا حملے میں افغانستان کی مداخلت کا ذکر کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ دہشت گرد افغانستان سے رابطے میں ہیں اور وہاں سے ٹریننگ حاصل کر کے پاکستان میں حملے کرتے ہیں۔ شواہد افغان حکام کو بھی پیش کیے جا چکے ہیں۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ آج کے حملے کے کئی پہلو ہیں اور تمام شواہد جلد سامنے لائے جائیں گے۔ جو بھی ملوث ہوگا، چاہے وہ کسی دوسرے ملک سے بھی ہو، معاف نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ دو ہفتے بعد اسلام آباد میں کوئی بھی گاڑی EMTAG کے بغیر داخل نہیں ہو گی۔
وزیر داخلہ نے یقین دہانی کرائی کہ شرپسند عناصر کا مناسب بندوبست کیا جائے گا، ہمیں اندازہ ہے افغانستان کیا کررہا ہے مگر سیکیورٹی پرسمجھوتہ نہیں کیاجائے گا، اسلام آباد کچہری خود کش حملہ جس نے بھی کرایا اسے بھگتنا پڑے گا،


