ہفتہ, اکتوبر 10, 2026
اشتہار

ری سیٹ کا مطلب نظام توڑنا نہیں، غلطیوں کو درست کرنا ہے، محسن نقوی

اشتہار

حیرت انگیز

لاہور: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ ریاستی نظام کو ری سیٹ کرنے کا مطلب نظام کو توڑنا نہیں بلکہ جو چیز غلط ہے اسے درست کرنا ہے، ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ موجودہ نظام کو ری سیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے لاہور میں ‘قومی پالیسی مکالمے’ سے خطاب کرتے ہوئے وضاحت کی کہ نظام کو ‘ری سیٹ’ کرنے کی بات کا مطلب اسے توڑنا یا غیر آئینی طریقہ اپنایا جانا نہیں، بلکہ موجودہ غلطیوں کو درست کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 79 سال سے چلنے والے انتظامی نظام کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے، اگر ہم مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کرپا رہے تو نظام کو ری سیٹ کرنا ضروری ہے، ری سیٹ کی بات کو مختلف تشریحات دی گئیں، بعض لوگوں نے اسے موجودہ حکومت سے جوڑا اور بعض نے سیاسی بیان سمجھا، تاہم ان کا اشارہ کسی سیاسی جماعت یا سیاسی بندوبست کی طرف نہیں بلکہ انتظامی نظام کی طرف تھا۔

وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ عوام چاہتی ہے تو نئے انتظامی یونٹس بننے چاہئیں، اس معاملے کا فیصلہ عوام کی مرضی سے ہوگا۔ نئے یونٹس کے حوالے سے کوئی فیصلہ کسی ایک حکمران یا لیڈر کے لیے نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ہونا چاہیے۔

محسن نقوی کا کہنا تھا کہ کہ 24 کروڑ سے زائد آبادی کے ساتھ پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا ملک بن چکا ہے، لیکن ہم نئی تحصیلیں، ڈویژنز اور اضلاع بنانے کے باوجود اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی سے کتراتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ میں ‘صوبہ اسلام آباد’ کے سب سے بڑے حامی ہیں کیونکہ اسلام آباد واحد شہر ہے جسے این ایف سی ایوارڈ یا کسی بجٹ سے رقم نہیں ملتی اور اسے سی ڈی اے کے ذریعے چلایا جاتا ہے، اگر کوئی نیا صوبہ بننا چاہیے تو اس پر سب سے پہلے اتفاق ہونا چاہیے۔

قائد اعظم محمد علی جناح کی 1948 کی تقاریر کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ صوبائیت اور لسانیت کی بیماری سے باہر نکلنا ہوگا، نئے انتظامی یونٹس بنانے سے کسی کی ثقافتی یا قومی پہچان (مثلاً پنجابی، سندھی، پختون) ختم نہیں ہوگی بلکہ انتظامی سہولت کے لیے نارتھ یا ساؤتھ جیسے نام رکھے جا سکتے ہیں۔

وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ نئے انتظامی یونٹس کے معاملے پر پارلیمنٹ، ماہرین اور متعلقہ ذمہ داروں کو بحث کرنا ہوگی، سب سے آخر میں عوام سے رائے لی جائے گی۔ صرف ایک چیز پہلے طے ہونی چاہیے اور وہ پاکستان کا مفاد ہے، جو لوگ نئے انتظامی یونٹس کے حق میں ہیں وہ اپنی مثبت سوچ ختم نہ کریں، اگر یہ عوام کے دل کی آواز ہے تو نئے انتظامی یونٹس ہر صورت بن کر رہیں گے۔

ملک کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیرِ داخلہ نے بتایا کہ ڈھائی کروڑ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر ہیں، 10 میں سے 4 بچوں کو مناسب غذا میسر نہیں، اور صرف 55 فیصد عوام کو پینے کا صاف پانی میسر ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کی تشکیل سے انصاف، تعلیم اور صحت کا نظام عوام کی دہلیز تک تیزی سے پہنچ سکے گا۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں