The news is by your side.

Advertisement

یومِ پیدائش: معین اختر پرستاروں کے دلوں‌ میں زندہ ہیں!

آج معین اختر کا یومِ پیدائش ہے۔ ایک عظیم فن کار اور خوب صورت انسان جو اب ہمارے درمیان موجود نہیں، مگر ان کی یاد دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔

اسٹیج، ریڈیو، ٹیلی ویژن اور فلم نگری تک ان کا فن اور اس کے مختلف روپ لازوال ہیں۔ اداکاری میں بے مثال معین اختر کی زندگی کا سفر بھی شان دار رہا۔ انھیں انسان دوست، سب کے مددگار اور تعاون کرنے والے کی حیثیت سے یاد کیا جاتا ہے۔

کراچی میں 24 دسمبر، 1950 کو آنکھ کھولنے والے معین اختر چند ماہ کے تھے جب ان کے والد محمد ابراہیم محبوب اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ انھوں نے تقسیمِ ہند کے بعد مراد آباد سے ہجرت کر کے کراچی میں سکونت اختیار کی تھی اور یہاں ان کا معاش ایک کاروبار سے جڑا ہوا تھا۔

ڈراموں اور اسٹیج پر کامیڈی کے ساتھ معین اختر نے ایک میزبان، گلوکار اور اسکرپٹ رائٹر کی حیثیت سے بھی اپنی قابلیت اور صلاحیتوں کو منوایا۔

سولہ برس کی عمر میں معین اختر نے اسٹیج پر پہلی پرفارمنس دی اور حاضرین کے دل جیت لیے۔ اسٹیج کے ساتھ ریڈیو پر اپنے فن کا اظہار کرنے کے بعد ٹیلی ویژن کی دنیا میں قدم رکھتے ہی گویا ان کی شہرت کو پَر لگ گئے۔ 70 کی دہائی میں معین اختر کو پاکستان بھر میں شناخت مل چکی تھی۔

ان کے مقبول ترین شوز میں‌ لوز ٹاک، ففٹی ففٹی، ہاف پلیٹ، اسٹوڈیو ڈھائی اور روزی جیسے کھیل شامل ہیں۔

معین اختر کے فن کا سفر پینتالیس برس پر محیط ہے جو ہر لحاظ سے شان دار اور متأثر کن ہے۔ کئی ایوارڈز اپنے نام کرنے والے معین اختر کو حکومتِ پاکستان کی جانب سے ستارۂ امتیاز اور تمغۂ حسن کارکردگی سے بھی نوازا گیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں