The news is by your side.

Advertisement

مزاح کے بے تاج بادشاہ معین اختر کی 68 ویں سالگرہ آج منائی جا رہی ہے

کراچی : فن مزاح کے بے تاج بادشاہ معین اختر کی 68 ویں سالگرہ آج منائی جا رہی ہے، فن کی دنیا میں مزاح سے لے کر پیروڈی تک اسٹیج سے ٹیلی ویژن تک معین اختر وہ نام ہے، جس کے بغیر پاکستان ٹیلی ویژن اور اردو مزاح کی تاریخ نامکمل ہے۔

معین اختر 24 دسمبر 1950 کو کراچی میں پیدا ہوئے، انھوں نے اُنیس سو چھیاسٹھ میں سولہ سال کی عمر میں پاکستان ٹیلی ویژن سے اپنے فنی کیرئیر کا آغاز کیا، معین اختر کی وجہ شہرت کسی ایک شعبے کی مرہون منت نہیں تھی، وہ فن کی دنیا کے بے تاج بادشاہ تھے۔ٕ

وہ بحیثیت اداکار، گلوکار، صداکار، مصنف، میزبان اور ہدایت کار معین اختر نے اپنی صلاحتیوں کا لوہا منوایا، ان کے مشہورٹی وی ڈراموں میں روزی، آنگن ٹیڑھا، انتظار فرمائیے، بندر روڈ سے کیماڑی ،ہاف پلیٹ اور عید ٹرین نمایاں ہیں۔

ان کے مشہور اسٹیج ڈراموں میں، بچاؤ معین اخترسے، ٹارزن معین اختر، بے بیا معین اختر، بکرا قسطوں پر، بایونک سرونٹ، بس جانے دو معین اختر،قابل ذکر ہیں۔

مادری زبان اَردو ہونے کے باوجود آپ کو انگریزی، سندھی، پنجابی، پشتو، ہندی، بنگالی، گجراتی سمیت دیگر زبانوں پر مہارت حاصل تھی جو آپ کی ذہانت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

انہوں نے انیس سو چوہتر میں فلم تم سا نہیں دیکھا کے علاوہ مسٹر کے ٹو اور مسٹر تابعدار میں کام کیا۔

اے آر وائی کے پروگرام لوز ٹاک میں انور مقصود کے ساتھ ان کی جوڑی بہت جمی اور پروگرام بھارت میں بھی بے حد مقبول ہوا، جو پانچ سال تک جاری رہا،جس میں انہوں نے چار سو کے قریب مختلف روپ دھارے۔

بالی ووڈ کے شہنشاہ دلیب کمار اور امیتابھ بچن بھی آ پ کے فنکاری کے مداح تھے۔

یہ وہ پہلے پاکستانی فنکار ہیں جن کے مجسمے کو لندن مشہور مومی عجائب گھر مادام تساؤ میں نصب کرنے کی منظوری دی گئی ہے، اس کے علاوہ معین اختر کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سمیت کئی قومی اور بین الاقوامی سطح پر کئی ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔

پاکستان کی پہچان بننے والے معین اختر کا انتقال 22 اپریل2011 کو کراچی میں ہوا ، مگر اپنے مداحوں کے دل میں آج بھی زندہ ہے۔

زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا
ہم ہی سو گئے داستاں کہتے کہتے

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں