واشنگٹن : امریکی تجزیہ کاروں نے مجتبیٰ خامنہ ای کے انتخاب کے بعد ٹرمپ پالیسیوں پر سوالات اٹھا دیے۔
تفصیلات کے مطابق ایران میں سید مجتبیٰ خامنہ ای کے بطور نئے سپریم لیڈر انتخاب نے امریکی سیاسی اور دفاعی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
امریکی تجزیہ کاروں نے صدر ٹرمپ کی ایران کے خلاف اختیار کردہ حالیہ پالیسیوں پر سخت سوالات اٹھائے۔
بین الاقوامی میڈیا ادارے الجزیرہ نے تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد قیادت ان کے بیٹے کو ہی منتقل ہونی تھی، تو جنگ کا کیا فائدہ ہوا؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ قیادت کی اس ہموار منتقلی نے امریکی اور اسرائیلی جنگی اہداف کو "بے معنی” بنا دیا ہے کیونکہ نظام میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی۔
مشہور امریکی تجزیہ کار باربرا سلاوِن نے ایک اہم نکتے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کے خاندان کے تقریباً تمام افراد کو اس جنگ کے دوران نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اپنے خاندان کے قتل کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای صلح جوئی کے بجائے مزید سخت اور جارحانہ موقف اختیار کر سکتے ہیں، جو امریکہ اور اسرائیل کے لیے مزید مشکلات پیدا کرے گا۔”
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ یہ سمجھتی تھی کہ خامنہ ای کے بعد ایران کا ڈھانچہ بکھر جائے گا، لیکن مجتبیٰ خامنہ ای کے انتخاب نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ایرانی ریاست کا اندرونی نظام اب بھی فعال ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


