The news is by your side.

Advertisement

پی ڈی ایم اجلاس، 13 نومبر کو ایک اور بیٹھک ہوگی، مولانا فضل الرحمان

اسلام آباد: پاکستان ڈیموکریٹک موؤمنٹ (پی ڈی ایم) کے صدر اورجمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ جمعہ تیرہ نومبر کو اسٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس ہوگا جس میں تمام جماعتیں آئندہ لائحہ عمل سے متعلق اپنی تجاویز پیش کریں گی۔

اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمان کی زیرصدارت پی ڈی ایم کا اجلاس ہوا جس میں اپوزیشن جماعتوں کے اراکین نے شرکت کی۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے بتایا کہ نوازشریف اور آصف زرداری نے بذریعہ ویڈیو لنک جبکہ اپوزیشن جماعتوں کے دیگر قائدین نے اجلاس میں شرکت کی۔

انہوں نے بتایا کہ ’اجلاس میں ملک کی موجودہ صورتحال اور آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا گیا، یہ بات سامنے آئی کہ آج پاکستان سنگین معاشی بحران میں پھنسا ہوا ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ’پی ڈی ایم نےتحریک کوآگے لےجانےکی بات کی ہے، جس کے تحت ملک بھر جلسوں کے انعقاد پر مشاورت جبکہ میثاق طے کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا‘۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ’پی ڈی ایم کی اسٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس 13 نومبر کو طلب کیا گیا ہے جس میں تمام جماعتیں اپنی تجاویز لے کر آئیں گی جن کی روشنی میں متفقہ فیصلہ کیا جائے گا، بعد ازاں 14 نومبر کو اسلام آباد میں دوبارہ اجلاس ہوگا‘۔

پی ڈی ایم کے صدر نے کا کہنا تھا کہ ’اجلاس میں مریم نواز اور شوہر کے ساتھ کراچی میں پیش آنے والے واقعے کی مذمت کی گئی جبکہ آئی جی کے ساتھ جو کچھ ہوا اُس کی بھی مذمت کی گئی، تین ہفتے گزر جانے کے باوجود کوئی تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر نہیں آئی جبکہ دس روز کا اعلان کیا گیا تھا‘۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ’وزیرداخلہ اعجاز شاہ کے بیان پر شدید احتجاج کیا گیا اور اُن کے بیان کو دھمکی کے طور پر دیکھا گیا، ماضی میں اےاین پی رہنماؤں کوقتل کیا گیا، اب دھمکی دی جارہی ہے کہ ایسامسلم لیگ ن کے ساتھ بھی ایسا ہوسکتا ہے، اگر کوئی حادثہ ہوا تو اصل دہشت گرد کے لیے تحقیق کی ضرورت نہیں ہے‘۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’اسٹیبلشمنٹ کا نام لینا یا نہ لینا کوئی بڑی بات نہیں، سب کومعلوم ہےاسٹیبلشمنٹ سے مرادکیا ہوتی ہے، جب وزیراعظم اور وزیروں کانام لیاجاتاہے تو اداروں کانام لینےمیں مضائقہ نہیں ہے‘۔

Comments

یہ بھی پڑھیں