The news is by your side.

Advertisement

کرونا کا علاج زہریلے پودے میں دریافت، تحقیق میں انکشاف

برطانوی سائنس دانوں نے ایک ایسا زہریلا پودہ دریافت کیا ہے جس سے نکلنے والا زہریلا مواد کرونا وائرس کی تمام اقسام کے خلاف مؤثر ہے۔

کرونا وائرس کی تباہ کاریاں گزشتہ دو برس سے جاری ہیں اور اب تک اس وبا کی چار اقسام منظر عام آچکی ہیں جو وائرس کو مزید مہلک بنارہی ہیں، حال ہی میں کرونا کی اومیکرون نامی قسم سامنے آئی جو ڈیلٹا ویرینٹ سے بھی زیادہ تیزی سے پھیلتی ہے۔

کرونا وبا پھیلاؤ روکنے کےلیے ایک مرتبہ پھر متعدد ممالک نے سخت پابندیوں کا اطلاق شروع کردیا ہے لیکن کیا پابندیاں کرونا سے نجات کا باعث ہیں یا پھر کوئی علاج بھی دریافت ہوگا۔

برطانیہ کی یونیورسٹی آف ناٹنگھم کے سائنسدانوں نے زہریلی گاجر نامی ایک ایسا پودہ دریافت کیا ہے کہ جس سے نکلنے والا زہریلا مادہ ’تھپسیگارگین‘ (ٹی جی) ایک نئی قدرتی اینٹی وائرل دوا کے طور پر ثابت ہوا ہے جو کہ سارس-کوویک2 کے ڈیلٹا ویرینٹ اور اومیکرون سمیت دیگر وائرسز کو بھی روکنے کے لیے مؤثر ہے۔

واضح رہے کہ اومیکرون کرونا کی وہ قسم ہے جو دیگر ویرینت سے نو گنا زیادہ تیزی سے پھیلتی ہے اسی لیے اسے سب سے زیادہ خطرناک قسم قرار دیا جارہا ہے۔

محققین کے مطابق اس زہریلے پودے کی مدد سے تیار کی جانے والی دوا کی صرف ایک خوراک ہی تمام سِنگل ویرینٹ کا 95 فیصد تک خاتمہ کر سکتی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں