مولوی عبدالحق ایک ادیب ہیں، ایک بڑی شخصیت ہیں، ایک سنگِ میل ہیں، ایک علامت ہیں اور ایک مینارِ ہدایت ادیب ہونے کی حیثیت سے عبدالحق صاحب کے تین نمایاں پہلو ہیں۔ وہ ایک منفرد طرز کے انشاء پرداز ہیں، ایک صاحبِ بصیرت اور ایک غائر نگاہ رکھنے والے محقق۔
تفصیلات پیش کرنے کا یہ موقع نہیں۔ میں سرسری طور پر محض اپنے تاثرات پیش کر رہا ہوں۔ سرسید مرحوم اور حالی کی رہبرانہ انشاء پردازی کو عبدالحق صاحب نے نئے امکانات، نئی سلاست، نئی آہنگ اور نیا مستقبل بخشا ہے۔
عبدالحق صاحب کے اسلوب میں طاقت، عصریت اور استواری پائی جاتی ہے۔ اس میں سادگی کے ساتھ ہلکی سی نمکینی ملتی ہے۔ سطحیت کہیں نہیں۔ مگر سنجیدہ تیکھا پن موجود ہے۔ عبدالحق صاحب نے اردو نثر کی صحت مندانہ روایت کو آگے بڑھانے میں بڑا اہم کام کیا ہے۔
ناقد کی حیثیت سے عبدالحق صاحب نے انفرادی نظر، غیر جانب داری اور جرأتِ اظہار کا ہمیشہ ثبوت دیا ہے۔ ان کی سخن شناسی نے بھل منساہت کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ ان کی تنقید میں اقدار کی چھان پھٹک تو نہیں ملتی۔ لیکن مسلمہ قدروں کے برتاؤ میں مولوی عبدالحق بڑی ذہانت اور متانت کو راہ دیتے ہیں۔ یہ بڑی بات ہے اور مشکل کام ہے۔ میرے خیال میں حالی کے ساتھ ساتھ عبدالحق نے بھی اردو تنقید کی فضا، سمت اور مزاج و میلان بدلنے میں بڑی مدد کی ہے۔
تحقیق کے میدان میں عبدالحق صاحب میرِ کارواں ہیں۔ انہوں نے اردو دنیا کو مائل بہ تحقیق کیا اور خود بھی عملی طور پر نوادر پیش کرتے ہیں۔ عبدالحق صاحب کی روشِ تحقیق شترِ بے مہار نہیں۔ اس کی منزل اور منہاج واضح ہے۔ وہ مخطوطات کی محض نقطہ شماری نہیں کرتے۔ ان کا مقصود نکتہ رسی ہے۔ ان کے ہاں انتخابِ موضوع کے معاملے میں بھی توازن پایا جاتا ہے۔ وہ تحقیق مہمل نہیں کرتے۔ بعض محقق ہر مفقود و نا مشہور کو مشہور و معدود بنانے کے خبط میں رہتے ہیں۔ میرؔ کے سر کے بالوں کی تعداد کیا تھی؟ یا وفات کے وقت مصحفیؔ کے کتنے دانت تھے؟ غالب نے فلاں فلاں لفظوں کو کتنی بات استعمال کیا ہے؟ ایسے ہی سوالات کے محققانہ جواب دے کر وہ جی کے حوصلے نکالتے ہیں۔ وہ بڑے فن کاروں کی صرف و نحو کی غلطیاں گنتے۔ ادیبوں کی مٹی پلید کرتے اور ادب و شعر میں کیڑے ڈال کر مسرور ہوتے ہیں۔
دوسرے محققوں سے خار کھاتے ہیں اور اپنی ذہنی کوتاہ قدی کو گردن اکڑا کر دور کرنا چاہتے ہیں۔
مولوی عبدالحق کی تحقیق کارآمد، عظیم اور بصیرت افروز ہوتی ہے۔ تحقیق حق میں لغزش و افتاد سے کو ن بری ہوسکتا ہے؟ لیکن دوسروں کی چوک یا نارسائی پر بغلیں بجانے والے اپنی ذہنیت اور ظرف کا ثبوت دیتے ہیں۔ سچائی کے اظہار اور سوقیانہ دندان نمائی میں فرق ہے۔ انکشافِ حقائق اور تکبرانہ عیب جوئی میں بڑا بعد ہے۔ مولوی عبدالحق کی تحقیقات یا کسی محقق کے انکشافات حرفِ آخر کبھی نہیں ہوتے۔ سچا اور بھلا محقق وہ ہے جو انکسار و تعاونِ باہمی کے ساتھ بڑی لگن سے اہم کاموں میں لگا رہے۔ مولوی صاحب نکتہ چینیوں کے نیش اور مداحوں کے موش کے باوجود، باوصف مخلصانہ طور پر اپنی تحقیق میں مشغول رہے ہیں۔
عبدالحق صاحب اردو کی ایک زندہ علامت ہیں۔ ان کا تن، من، دھن اردو ہے۔ انہوں نے اپنا سب کچھ اردو پر قربان کر دیا۔ ان کی پوری زندگی اردو پر نچھاور ہوگئی۔
اردو کے پودے کو عبدالحق نے اپنے خون دل و جگر سے سینچا ہے۔ اردو کے چاہنے والوں کے ذہن و قلب میں جو اردو لغت ہے اس میں لفظ اردو کے معنی یوں لکھے ہوئے ہیں۔۔۔ ’’عبدالحق‘‘
حال و مستقبل کے لیے مولوی عبدالحق اردو کے تاج محل بھی ہیں اور قطب مینار بھی۔
(معروف تنقید نگار، محقق، فکشن رائٹر اور شاعر اختر اورینوی کی بابائے اردو مولوی عبدالحق پر تحریر)
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


