The news is by your side.

Advertisement

کاش ہم میں بہت سے نور خاں ہوتے!

اردو ادب میں خاکہ نگاری باقاعدہ صنف کا درجہ رکھتی ہے۔ یہ دراصل کسی شخصیت کی لفظی تصویر ہوتی ہے جس میں خاکہ نویس اس کی زندگی سے متعلق اہم اور مخصوص حالات و واقعات بیان کرتا ہے۔ اس کا حلیہ، حرکات و سکنات، عادات و اطوار، اس کے ظاہری و باطنی اوصاف اور طرزِ گفتگو کو اپنے مشاہدات کی گرہ لگا کر اختصار کے ساتھ پیش کرتا ہے۔

اس فن میں باکمال نثر نگار یوں قلم اٹھاتا ہے کہ کسی کی جیتی جاگتی، چلتی پھرتی تصویر قاری کے سامنے آجاتی ہے۔ اردو ادب کے سنجیدہ قارئین نے مختلف نثر نگاروں کے تحریر کردہ مشہور اور اہم شخصیات کے خاکے پڑھے ہوں گے، لیکن یہاں ایک بات قابلِ غور ہے کہ کیا نام ور اور مشہور شخصیات ہی کا خاکہ لکھا جاسکتا ہے؟

ہمارے ہاں زیادہ تر خاکہ نویسوں نے فنونِ لطیفہ سے وابستہ معروف شخصیات اور دیگر شعبوں کے اہم ناموں کو ہی اس فن میں سمیٹا ہے، مگر بابائے اردو مولوی عبدالحق نے ‘‘نور خان’’ جیسے ایک عام انسان کو جو حیدرآباد دکن کے ایک باغ کا مالی تھا، اپنے خاکوں کی مشہور کتاب ‘‘چند ہم عصر’’ نہایت خوب صورتی سے ہمارے لیے مثال بنا کر پیش کیا ہے۔

اس خاکے کی ابتدائی سطور جہاں اس فن سے متعلق بابائے اردو کے خیالات سے آگاہی دیتی ہیں، وہیں خاکہ نگاروں کے لیے اس فن میں راہ نما بھی ہیں۔

مولوی عبدالحق نے لکھا ہے کہ لوگ بادشاہوں اور امیروں کے قصیدے اور مرثیے لکھتے ہیں۔ نام ور اور مشہور لوگوں کے حالات قلم بند کرتے ہیں۔ میں ایک غریب سپاہی کا حال لکھتا ہوں، اس خیال سے کہ شاید کوئی پڑھے اور سمجھے کہ دولت مندوں، امیروں اور بڑے لوگوں کے ہی حالات لکھنے اور پڑھنے کے قابل نہیں ہوتے بلکہ غریبوں میں بھی بہت سے ایسے ہوتے ہیں کہ ان کی زندگی ہمارے لیے سبق آموز ہوسکتی ہے۔

مولوی عبدالحق کے اس خاکے کا عنوان‘‘ گدڑی کا لال، نور خان’’ ہے جس کی چند جھلکیاں آپ کے حسنِ مطالعہ کی نذر ہیں۔
یوں محنت سے کام تو اور بھی کرتے لیکن خاں صاحب میں بعض ایسی خوبیاں تھیں جو بڑے بڑے لوگوں میں بھی نہیں ہوتیں۔ سچائی، بات کی اور معاملے کی، ان کی سرشت میں تھی اور خواہ جان ہی پر کیوں نہ بن جائے، وہ سچ کہنے سے کبھی نہیں چوکتے تھے۔ اسی میں انہیں نقصان بھی اٹھانے پڑے مگر وہ سچائی کی خاطر سب کچھ گوارا کرلیتے تھے۔

مستعد ایسے تھے کہ اچھے اچھے جوان ان کا مقابلہ نہیں کرسکتے تھے۔ دن ہو، رات ہو، ہر وقت کام کرنے کو تیار۔ اکثر دولت آباد سے پیدل آتے جاتے تھے۔ کسی کام کو کہیے تو ایسی خوشی سے کرتے تھے کہ کوئی اپنا کام بھی اس قدر خوشی سے نہ کرتا ہوگا۔

دوستی کے بڑے پکے اور بڑے وضع دار تھے، چونکہ ادنی اعلیٰ سب ان کی عزت کرتے تھے اس لیے ان کے غریب دوستوں سے بہت سے کام نکلتے تھے۔
خود دار ایسے کہ کسی سے ایک پیسے کے روادار نہ ہوتے تھے۔ مجھ سے انہیں خاص انس تھا، میں کوئی چیز دیتا تھا تو کبھی انکار نہ کرتے تھے، بلکہ کبھی کبھی خود فرمائش کرتے تھے، مٹھاس کے بے حد شائق تھے۔ ان کا قول تھا کہ اگر کسی کو کھانے کو میٹھا ملے تو نمکین کیوں کھائے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ نمکین کھانا مجبوری سے کھاتا ہوں، مجھ میں اگر استطاعت ہو تو ہمیشہ مٹھاس ہی کھایا کروں اور نمکین کو ہاتھ نہ لگاؤں۔

وہ حساب کے کھرے، بات کے کھرے، اور دل کے کھرے تھے۔ مہرو وفا کے پتلے اور زندہ دلی کی تصویر تھے۔ ایسے نیک نفس، ہم درد، مرنج و مرنجان اور وضع دار لوگ کہاں ہوتے ہیں۔ ان کے بڑھاپے پر لوگوں کو رشک آتا تھا اور ان کی مستعدی دیکھ کر دل میں امنگ پیدا ہوتی تھی۔ ان کی زندگی بے لوث تھی اور ان کی زندگی کا ہر لمحہ کسی نہ کسی کام میں صرف ہوتا تھا۔

مجھے وہ اکثر یاد آتے ہیں اور یہی حال ان کے دوسرے جاننے والوں اور دوستوں کا ہے۔ اور یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ وہ کیسا اچھا آدمی تھا۔ قومیں ایسے ہی لوگوں سے بنتی ہیں۔ کاش ہم میں بہت سے نور خاں ہوتے!

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں