The news is by your side.

Advertisement

مولوی تمیز الدین: آئین کی بالادستی کے علم بردار

پاکستان کی تاریخ میں آئین اور قانون کی بالادستی کے حوالے سے مولوی تمیز الدین کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا۔ آج ان کی برسی منائی جارہی ہے۔ مولوی تمیز الدین 19 اگست 1963 کو ڈھاکا میں وفات پاگئے تھے۔

مولوی تمیز الدین 1889 میں فرید پور میں پیدا ہوئے۔ 1914 میں قانون کی ڈگری حاصل کی اور 1926 میں پہلی مرتبہ بنگال کی مجلسِ قانون کے رکن بنے۔ 1937 میں آل انڈیا مسلم لیگ کے امیدوار کی حیثیت سے رکن بننے کے ساتھ وہ غیر منقسم بنگال کی کابینہ میں بھی شامل کیے گئے۔

1945 کے انتخابات میں انھیں ہندوستان کی مرکزی مجلس قانون ساز کا رکن اور قیام پاکستان کے بعد پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کا نائب صدر منتخب کیا گیا۔ قائداعظم کی وفات کے بعد مولوی تمیز الدین کو مجلس دستور کا صدر منتخب کرلیا گیا اور وہ تاریخی موقع 1954 میں آیا جب غلام محمد نے دستور ساز اسمبلی تحلیل کی تو مولوی تمیز الدین نے اسے عدالت میں چیلنج کردیا۔ 1962 میں وہ قومی اسمبلی کے رکن اور بعدازاں اسپیکر منتخب ہوئے۔ کراچی کی ایک مصروف شاہ راہ‌ انہی سے موسوم ہے۔ مولوی تمیز الدین ڈھاکہ میں‌ آسودہ خاک ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں