جمعہ, جولائی 17, 2026
اشتہار

وفاقی آئینی عدالت نے مونال ریسٹورنٹ مسمار کرنے کے سپریم کورٹ فیصلے پر سوالات اٹھا دیے

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد : وفاقی آئینی عدالت نے مونال مسمار کرنے کے سپریم کورٹ فیصلے پر سوالات اٹھاتے ہوئے ریسٹورنٹ فوری کھولنے کی استدعا مسترد کر دی۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی آئینی عدالت میں جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے مونال ریسٹورنٹ کی بندش کے خلاف دائر نظرثانی درخواست پر سماعت کی۔

وفاقی آئینی عدالت نے مارگلہ ہلز پر واقع مشہور مونال ریسٹورنٹ مسمار کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے پر سنجیدہ قانونی سوالات اٹھا دیے تاہم ریسٹورنٹ کو فوری طور پر دوبارہ کھولنے کی استدعا مسترد کر دی ہے۔

سماعت کے دوران وفاقی حکومت نے مونال ریسٹورنٹ مسمار کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کی حمایت کر دی ہے، جبکہ عدالت نے ریمارکس دیے ہیں کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ صرف وکلا کے باہمی اتفاقِ رائے سے ختم نہیں ہو سکتا، اس کے لیے تفصیلی عدالتی حکم دینا پڑے گا۔

سماعت کے دوران بینچ کے سربراہ جسٹس حسن اظہر رضوی اور وکلا کے درمیان انتہائی دلچسپ اور تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔

دورانِ سماعت جسٹس حسن رضوی نے ریمارکس دیے کہ مونال کی لیز تجدید کا کیس سول کورٹ میں جبکہ کچھ ریسٹورنٹس کی انٹرا کورٹ اپیلیں ہائی کورٹ میں زیرِ التوا تھیں۔

جس پر وکیل نے بتایا کہ سپریم کورٹ نے اپنے ایک فیصلے سے تمام نچلی عدالتوں کے زیرِ التوا کیسز خود ہی نمٹا دیے تو جسٹس حسن رضوی نے پوچھا کہ "متعلقہ فریقین کو نہ سننے کا نکتہ سپریم کورٹ میں کیوں نہیں اٹھایا گیا؟ وہاں تمام وکیل کیوں گونگے ہو گئے تھے؟”

سینئر وکیل احسن بھون نے جواب دیا کہ "ہم تو یہاں بھی ادب سے کھڑے ہیں جیسے سپریم کورٹ میں کھڑے تھے”، جس پر عدالت نے ایک تاریخی جملہ کہتے ہوئے ریمارکس دیے کہ "وکیل کا کام قانونی نکات اٹھانا ہے، ادب سے درباری کھڑے ہوتے ہیں، وکیل نہیں”۔

عدالت نے کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سی ڈی اے کی نظرثانی درخواست میں کوئی ٹھوس قانونی نکات اٹھائے ہی نہیں گئے۔

سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ وائلڈ لائف بورڈ کا نیا قانون سال 2024 میں آ چکا ہے۔

احسن بھون نے عدالت کے سامنے تجویز رکھی کہ تمام فریقین اس بات پر متفق ہیں کہ اس کیس کو واپس سول کورٹ میں چلنے دیا جائے۔

حکومتی وکیل نے بھی تائید کرتے ہوئے کہا کہ تمام وکلا کا اتفاق ہے کہ سپریم کورٹ کا سابقہ فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔

جسٹس حسن اظہر رضوی نے وکلا کے اتفاقِ رائے پر واشگاف الفاظ میں کہا کہ "وکلا کے اتفاق سے عدالتیں نہیں چلتیں اور سپریم کورٹ کا فیصلہ ایسے ختم نہیں ہو سکتا، عدالتی حکم واپس لینے کے لیے ہمیں تفصیلی فیصلہ دینا پڑے گا”۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ہم سپریم کورٹ کی طرح کسی پر اپنا فیصلہ تھوپنا نہیں چاہتے، کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم بھی دوسری پارٹیوں کو سنے بغیر ہی کوئی فیصلہ کر دیں؟”

وفاقی آئینی عدالت نے مونال ریسٹورنٹ کو فوری کھولنے کا عبوری حکم جاری کرنے سے انکار کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت جولائی کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کر دی ہے۔

اہم ترین

راجہ محسن اعجاز
راجہ محسن اعجاز
راجہ محسن اعجاز اسلام آباد سے خارجہ اور سفارتی امور کی کوریج کرنے والے اے آر وائی نیوز کے خصوصی نمائندے ہیں

مزید خبریں